ملک کے مختلف شہروں میں گرمی کی شدت میں اضافے کے بعد ہیٹ اسٹروک کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے جو کمزور قوت مدافعت کے افراد کیلئے بہت خطرناک ہے تاہم اس پر قابو پایا جاسکتا ہے۔
اے آر وائی نیوز کے پروگرام باخبر سویرا میں گفتگو کرتے ہوئے ماہرِ غذائیت حنا انیس نے کہا کہ شدید گرمی میں جسم کو صحت مند رکھنے کے لیے طرزِ زندگی میں فوری تبدیلی ناگزیر ہے۔
انہوں نے موسم میں اچانک تبدیلی اور گرمی کی شدت میں اضافے کے بعد ماہرینِ صحت نے عوام کو روزمرہ زندگی اور خوراک میں احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دوپہر کے اوقات میں گرمی کی شدت اس قدر بڑھ جاتی ہے کہ گھروں، گاڑیوں اور باہر نکلنے والے افراد سب ہی متاثر ہو رہے ہیں، لہٰذا بچوں، بزرگوں اور کام کرنے والے افراد کو خاص احتیاط کی ضرورت ہے۔
ماہرِ غذائیت نے پانی والی غذاؤں کا استعمال ضروری قرار دیتے ہوئے بتایا کہ گرمیوں میں قدرتی طور پر ایسے پھل اور سبزیاں دستیاب ہیں جو جسم کو ٹھنڈک اور توانائی فراہم کرتی ہیں۔ ان میں تربوز خربوزہ کھیرا ٹماٹر اور سبز پتوں والی سبزیاں شامل ہیں جنہیں روزانہ کی بنیاد پر خوراک کا حصہ بنانا چاہیے۔
ایک سوال کے جواب میں حنا انیس نے بتایا کہ پھل کھانے کا بہترین وقت دو کھانوں کے درمیان ہوتا ہے، جیسے ناشتہ اور دوپہر کے کھانے کے درمیان (مڈ مارننگ) یا دوپہر اور رات کے کھانے کے درمیان (شام کا وقت)
ہیٹ اسٹروک سے کیسے محفوظ رہا جائے؟
انہوں نے کہا کہ موسم گرما میں زیادہ سے زیادہ گھر میں یا کسی ٹھنڈی جگہ میں رہنے کو ترجیح دیں اگر باہر جانا ضروری ہو تو ہلکے پھلکے کپڑوں کا استعمال کریں جن کا رنگ گہرا نہ ہو اور پانی ہر وقت اپنے ساتھ رکھیں۔
اس کے علاوہ زیادہ سے زیادہ پانی پینا عادت بنائیں یا کم از کم دن بھر میں 8 گلاس پانی، پھلوں کے جوس وغیرہ کا استعمال کریں کیونکہ شدید گرمی سے جسم میں نمک کی سطح کم ہوجاتی ہے۔



