کراچی : گل پلازہ میں لگنے والی آگ بجھانے کا عمل 33 گھنٹے گزرنے کے باوجود تاحال جاری ہے، عمارت کے ملبے سے مزید چار لاشیں اور بچے سمیت متعدد افراد کے جسمانی اعضا بھی ملے ہیں۔
اے آر وائی نیوز کی رپورٹ کے مطابق گل پلازہ آتشزدگی سانحے کے دل دہلا دینے والے مناظر نے شہر میں سوگ کا سماں پیدا کردیا ملبے سے مزید چار افراد کی لاشیں اور بچے سمیت 3 افراد کے اعضا ملے ہیں۔ جس کے بعد جاں بحق افراد کی تعداد 10 ہوگئی۔
ریسکیو حکام کے مطابق جاں بحق ہونے والے افراد کی شناخت فی الوقت نہیں ہوسکی ہے، تاہم قانونی کارروائی کیلیے لاشوں کو سول اسپتال ٹراما سینٹر منتقل کردیا گیا۔
ریسکیو آپریشن 33 گھنٹے سے مسلسل جاری ہے، اتنا طویل وقت گزرنے کے باوجود اب تک آگ پر مکمل قابو نہیں پایا جا سکا جو انتظامیہ کی کارکردگی پر سوالیہ نشان بن گیا ہے۔ فائر افسر کے مطابق عمارت کی تیسری منزل پر بھی ایک شخص کی موجودگی کا شبہ ہے۔
دوسری جانب گل پلازہ آتشزدگی کے بعد 59 لاپتہ افراد کے اہل خانہ نے پولیس سے رابطہ کیا ہے، جس کے بعد پولیس نے ان کے موبائل نمبر حاصل کرلیے۔
ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا نے میڈیا کو بتایا کہ اب تک 26 افراد کی لوکیشن گل پلازہ کے پاس ملی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ مزید لاپتہ افراد کی لوکیشن کی اسکرونٹی کررہے ہیں، پولیس موبائل نمبرز پر مزید کام کررہی ہے۔
گل پلازہ سانحہ: ”مما ہماری دکان جل گئی“ ماں دکھ بھری داستان سناتے ہوئے آبدیدہ



