کینسر غیرمعمولی خلیوں کی نشوونما کی ایک خطرناک بیماری ہے، عام طور پر اس کی تشخیص اس وقت ہوپاتی ہے جب مریض آخری یا سیکنڈ لاسٹ اسٹیج پر ہوتا ہے۔
کینسر کے مرض میں سیل کی نشوونما کو کنٹرول کرنے والے سگنل ٹھیک سے کام نہیں کرتے۔ یعنی دوسرے لفظوں میں کینسر کے خلیے صحت مند خلیات کے اصولوں پر عمل نہیں کرتے۔
اس حوالے سے اے آر وائی نیوز کے پروگرام باخبر سویرا میں معروف آنکو لوجسٹ ڈاکٹر اصغر حسین نے کینسر کی علامات اور اس کی بروقت تشخیص سے متعلق ناظرین کو اہم معلومات سے آگاہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ مسئلہ یہ ہے کہ کئی بار کیونکہ ہم ڈاکٹر کو خاطر خواہ اہمیت نہیں دیتے، اس لیے ہم کچھ بنیادی علامات کو نظر انداز کردیتے ہیں جو جلد تشخیص کے لیے بہت ضروری ہوسکتی ہیں۔
ڈاکٹر اصغر حسین نے بتایا کہ کینسر کی جتنی بھی اقسام ہیں وہ تمام چار اسٹیجز پر مشتمل ہے، پہلے اور دوسرے اسٹیج کی نسبت تیسرے مرحلے میں مریض کو سنبھالنا اور علاج کرنا کافی دشوارہوتا ہے۔ اور مریض کو ان تمام تکلیف دہ مراحل سے گزرنا پڑے گا۔
پاکستان میں کینسر کے علاج سے متعلق ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ عام طور پر بریسٹ کینسر یا مردوں میں مثانے کا کینسر کے علاج میں ہمارے ہاں بہت جدت آئی ہے، یہاں تک کہ بعض مریضوں کو کیمو بھی نہیں لگوانی پڑتی۔



