spot_img

ذات صلة

جمع

کراچی میں خسرہ کے کیسز میں تیزی سے اضافہ، بچاؤ کیسے ممکن ہے؟

کراچی میں بچوں اور نوجوانوں میں خسرہ کے کیسز میں تیزی سے اضافہ ہونے لگا ہے۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق کراچی میں خسرہ کے دوران تیز بخار کے ساتھ کھانسی اور جسم کے مختلف حصوں پر چھوٹے چھوٹے دانے نکل رہے ہیں۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ بہت سے ایسے کیسز بھی رپورٹ ہوئے ہیں جن کو خسرہ ویکسین لگائی تھی پھر بھی وہ اس بیماری میں مبتلا ہیں۔

سندھ میں 2025 خسرہ کے حوالے سے بہت زیادہ خطرناک ثابت ہوا ہے، 11 ہزار سے زائد مشتبہ کیسز میں سے 4 ہزار 2 سو سے زائد تصدیق شدہ انفیکشن شامل تھے جبکہ 65 بچے بھی جاں بحق ہوگئے تھے۔

خسرہ ایک مہلک جان لیوا بیماری ہے اس کی وجوہات، علامات کیا ہیں اور ڈاکٹروں سے کب رابطہ کرنا چاہیے اس حوالے سے ڈاکٹر پروفیسر ڈاکٹر سید جمال اظہر نے تفصیلات بتائی ہیں۔

ڈاکٹر جمال نے کہا کہ خسرہ سارا سال رہتا ہے کچھ سیزن میں زیادہ کیسز ہوتے ہیں، مئی اور جون میں اس کے کیسز زیادہ ہوتے ہیں، اس کا حل سوائے ویکسینیشن کے کچھ نہیں، جب تک بچوں کی مکمل ویکسینیشن نہ ہو اس بیماری سے بچنا ممکن نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ خسرہ ایک بچوں سے دوسروں میں منتقل ہوتی ہے اور یہ انفیکشن ڈیزیز ہے جو ان بچوں کو ہوتی ہے جن کی قوت مدافعت کم ہو۔

ڈاکٹر نے کہا کہ خسرہ کی ایک ویکسین 9 ماہ میں لگتی ہے اور دوسری 15 ماہ میں لگائی جاتی ہے اگر یہ دو ڈوز لگادی جائیں تو بچوں کو بیماری سے بچایا جاسکتا ہے، کمیونٹی میں اگر 95 فیصد بچے ویکیسین لگائیں گے تو اس بیماری کے پھیلاؤ کو کم کیا جاسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے یہاں بچوں میں غذائی قلت کا مسئلہ ہے اس کی وجہ سے بھی اس کا قوت مدافعت متاثر ہوتا ہے اس وجہ سے ویکسین لگوانے کے باوجود وہ اس بیماری میں مبتلا ہوجاتا ہے، بہتر یہی ہے کہ دو ڈوز لگائی جائیں۔

spot_imgspot_img