کراچی : شہر قائد کے باسیوں کو مون سون بارشوں کے متوقع نقصانات سے محفوظ رکھنے کے لیے شہر کی مخدوش عمارتوں کو خالی کروانے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔
اس سلسلے میں کمشنر کراچی حسن نقوی کی زیر صدارت اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں مون سون کے دوران انتظامی صورتحال پر قابو پانے کیلیے اہم فیصلے کیے گئے۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ شہر کی انتہائی مخدوش رہائشی عمارتوں کو فی الفور خالی کرایا جائے،
اس موقع پر ایس بی سی اے حکام نے کمشنر کراچی کو مخدوش عمارتوں کے حوالے سے بریفنگ دی۔
بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے مطابق کراچی شہر میں 584 مخدوش عمارتیں موجود ہیں جن میں سے 59 انتہائی مخدوش عمارتیں ہیں جن میں 29 تاریخی عمارتیں شامل ہیں۔
اجلاس میں احکامات جاری کیے گئے کہ بلڈنگز کنٹرول اتھارٹی مخدوش عمارتوں کو خالی کرانے کے فوری کمشنر کراچی نے سندھ بلڈنگزکنٹرول اتھارٹی کو ہدایت کی کہ نوٹسز جاری کرے، مکینوں کی آگاہی کیلئے نوٹسز مشتہر کیے جائیں۔
حسن نقوی نے کہا کہ مکینوں کی زندگیوں کو محفوظ بنانے کیلئے ترجیحی اقدامات کی ضرورت ہے، بریفنگ میں بتایا گیا کہ مخدوش عمارتوں میں سے 90 فیصد سے زائد عمارتیں ضلع جنوبی میں ہیں۔
442مخدوش عمارتیں ضلع جنوبی،73 مخدوش عمارتیں ضلع وسطی میں ہیں جبکہ ضلع شرقی میں 16 اور کورنگی ضلع میں 18 مخدوش عمارتیں قائم ہیں۔ اس کے علاوہ کیماڑی ضلع 28، ملیر 5 اوضلع غربی میں 2مخدوش عمارتیں ہیں۔
کمشنر کراچی نے ہدایت کی کہ سندھ بلڈنگز کنٹرول اتھارٹی فوری انتہائی مخدوش کی فہرست ڈپٹی کمشنرز کو فراہم کرے۔
اجلاس میں مخدوش عمارتوں کو ان کی نوعیت کے لحاظ سے منہدم کرنے اور نوٹسز پر عمل درآمد نہ کرنے پر مخدوش عمارتوں کے گیس، بجلی اور پانی کے کنکشن منقطع کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔



