کراچی کے علاقے تھانہ نیو ٹاؤن کی حدود میں دن دہاڑے بینک ڈکیتی کی واردات کا ڈراپ سین چند گھنٹوں میں ہوگیا۔ ڈاکوؤں کا پورا گروہ گرفتار کرلیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق تھانہ نیو ٹاؤن کی حدود میں دن دہاڑے بینک ڈکیتی کی واردات نے دل دہلا دیے، ڈاکو بینک ملازمین کو یرغمال بنا کر 27لاکھ روپے لوٹ کر فرار ہوگئے۔ تاہم پولیس کی فوری کارروائی سے مسئلہ چند گھنٹوں میں ہی حل ہوگیا۔
یہ واردارت 30ستمبر 2005 بروز جمعہ کو سنہری بینک چاندنی چوک برانچ کراچی میں صبح 9بج کر 45منٹ پر ہوئی تھی جب 5مسلح افراد داخل باری باری بینک میں داخل ہوئے اور اسلحہ کے زور پر ملازمین کو یرغمال بنا لیا، ملزمان 3 موٹر سائیکلوں پر واردات کیلیے آئے تھے۔
بینک ڈکیتی کی حکمت عملی کے تحت پہلے تین ملزمان خود کو عام کسٹمر ظاہر کرتے ہوئے مین کاؤنٹر پر آکر کھڑے ہوگئے جس کے بعد مزید دو ڈاکو بھی اسی طرح داخل ہوئے پانچوں ملزمان نے بینک کا بغور جائزہ لیا۔
اس دوران موقع پاتے ہی ایک ڈاکو نے بینک منیجر پر پستول تان لی جس کے بعد دیگر ملزمان نے بھی اپنا اسلحہ نکال کر دیگر ملازمین کو ایک کمرے میں زمین پر بٹھا دیا۔
مذکورہ ملزمان نے صرف چند منٹوں میں واردات کی اور اسلحہ کے زور پر کیشیئر سے کمرے کا دروازہ کھلوا کر کاؤنٹر کی درازوں میں رکھی بھاری مالیت کی رقم لوٹ کر باآسانی فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔
بعد ازاں بینک ڈکیتی کی اطلاع ملتے ہی پولیس جائے وقوعہ پر پہنچی اور عملے سے پوچھ گچھ کے بعد شک پڑنے پر بینک کے کیشیئر کو اپنے ساتھ تھانہ لے آئی اور اپنے روایتی طریقے سے تفتیش کی تو کیشیئر نے سارا سچ اگل دیا اور بتایا کہ میں نے لالچ میں آکر ڈکیتی کی واردات کروائی۔



