کراچی ( 18 مارچ 2026): شہر قائد میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ طوفانی بارش سے اب تک 15 افراد کے جاں بحق ہونے کی اطلاعات ہیں۔
اے آر وائی نیوز کی رپورٹ کے مطابق 97کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی ہواوں نے چھتیں اڑادیں، دیواریں گرگئیں، کھمبے اور درخت اکھڑ گئے، قائد آباد میں مکان کی چھت گرنے سے میاں بیوی جاں بحق ہوگئے۔
کراچی کے مختلف علاقوں میں بارشوں کے دوران اب تک 15افراد جاں بحق اور25 سے زیادہ افراد زخمی ہوئے ہیں، بارش شروع ہوتے ہی مختلف علاقوں میں کے الیکٹرک کی جانب سے بجلی کی فراہمی معطل کردی گئی۔
مارکیٹوں میں بھی اندھیرا چھا گیا، لیاقت آباد میں طوفانی ہواؤں سے عمارتوں کی کھڑکیاں ٹوٹ گئیں، سولجر بازار کے علاقے میں کئی سال پرانا درخت گر گیا۔ کلفٹن میں درخت گرنے سے دو افراد زخمی ہوئے۔
مچھرکالونی میں مکان کی چھت گرگئی، قائد آباد سے بھینس کالونی تک کئی درخت گرگئے، طوفانی ہواؤں سے کاٹھور اور اطراف میں بھی درخت اور بجلی کے کھمبے گرگئے۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق بلدیہ ٹاؤن سیکٹر گیارہ میں ٹیلی فون ایکسچینج کے قریب دیوار گرنے سے 7 افراد کے جاں بحق اور 9 کےزخمی ہونے کی اطلاع ہے۔
عیسیٰ نگری، سرشاہ سلیمان علی روڈ، فلائی اوور پر بھی سائن بورڈز کو طوفانی ہواؤں سے شدید نقصان پہنچا۔ سول ایوی ایشن نے لائٹ ویٹ سیسنا طیاروں کو فلائنگ سے روک دیا۔
کراچی ایئرپورٹ پر تیزبارش کے پیش نظر فضائی آپریشن روک دیا گیا، پی ای سی ایچ ایس میں نجی اسپتال کی دیوار گرگئی، کئی گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔ اسکیم 33کی میرٹھ سوسائٹی میں ٹرانسفارمر میں آگ لگ گئی، محکمہ موسمیات کے مطابق کورنگی میں سب سے زیادہ 55.6ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔



