spot_img

ذات صلة

جمع

چاند پر انسان کی موجودگی کا خواب، 50 سال بعد بڑی پیشرفت

نیویارک : دنیا کی خلائی تاریخ میں انسان نے آخری بار سال 1972 میں چاند کی سطح پر قدم رکھا تھا جب امریکی خلائی ادارے ناسا کا تاریخی مشن ’اپولو 17‘ وہاں اترا تھا۔

اس مشن کے خلا باز چاند سے واپس آتے ہوئے 100 کلوگرام سے زائد مٹی اور قیمتی نمونے زمین پر لائے تھے جبکہ اس دوران لی گئی تصاویر نے زمین کو دیکھنے کے انسانی زاویے کو بھی بدل کر رکھ دیا تھا۔

ناسا نے تقریباً 50 سال بعد ایک بار پھر اپنے قمری مشن آرٹیمس پروگرام ٹو کا آغاز کرتے ہوئے چار خلابازوں کو چاند کی جانب روانہ کردیا ہے۔

ناسا کا آرٹیمس ٹو مشن تقریباً 50 سال بعد چاند کے گرد چکر لگانے والا پہلا عملے کا مشن ہوگا، اس 10روزہ مشن میں 4 خلاباز (رائڈ وائز مین، وکٹر گلوور، کرسٹینا کوچ، اور جیریمی ہینسن) اورین اسپیس کرافٹ میں چاند کے قریب جائیں گے اور واپس زمین پر آجائیں گے۔

آرٹیمس پروگرام کیا ہے؟

ناسا کی جانب سے شروع کیا گیا آرٹیمس پروگرام اربوں ڈالر مالیت کے متعدد مشنز پر مشتمل ایک وسیع خلائی منصوبہ ہے، جس کا مقصد انسانوں کو چاند کی سطح پر اتارنے (آرٹیمس تھری) کی راہ ہموار کرنا ہے۔

ابتدا میں یہ مشن 2027 کے لیے طے کیا گیا تھا، تاہم اب اندازہ ہے کہ اس میں 2028 تک تاخیر ہو سکتی ہے۔ اس پروگرام میں امریکہ کے ساتھ ساتھ کینیڈین اور یورپین اسپیس ایجنسیز سمیت دیگر کئی بین الاقوامی شراکت دار بھی شامل ہیں۔

اس مشن کا مقصد چاند کے گرد چکر لگا کر اورین اسپیس کرافٹ کے سسٹمز کو چیک کرنا ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جاسکے کہ وہ محفوظ طریقے سے کام کر رہے ہیں۔

آرٹیمس ٹو پروگرام کا مجموعی مقصد چاند پر انسانی موجودگی کو مستقل بنانا اور مریخ پر اگلا مشن بھیجنے کی تیاری کرنا بھی ہے۔ یہ مشن انسانی خلائی تلاش میں ایک اہم سنگ میل ہے، جو چاند پر طویل مدتی تحقیق کے لیے اہم ثابت ہوگا۔

ماہرین کے مطابق مستقبل میں چاند پر ایک خلائی اسٹیشن قائم کیا جاسکتا ہے، جو بعد ازاں مریخ مشنز کیلئے لانچ پیڈ کا کردار بھی ادا کرسکے گا۔

یاد رہے کہ چاند تک رسائی کی یہ کوشش صرف امریکا تک محدود نہیں، چین نے بھی اعلان کیا ہے کہ وہ 2030 تک انسان کو چاند پر اتارنے کا ارادہ رکھتا ہے، جبکہ بھارت بھی مستقبل میں چاند پر انسانی مشن بھیجنے کے منصوبوں پر کام کر رہا ہے۔

دنیا اندھیرے میں ڈوب جائے گی؟ ناسا نے اصل حقیقت بتادی

spot_imgspot_img