اسرائیل اور امریکا کی جانب سے ایران پر حملوں کے باعث کشیدگی سے دنیا بھر میں پیٹرول کی قیمت کو پر لگ گئے، پاکستان میں بھی پیٹرول فی لیٹر 300 روپے تک جا سکتا ہے۔
ایران پر امریکہ اور اسرائیل کی کارروائیوں کے بعد بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت میں غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا جس کے بعد تیل کے عالمی نرخ 88 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچے۔
اس ساری صورتحال میں اگر یہ جنگ طویل ہوتی ہے تو پاکستان کی تیل اور ایل این جی کی طلب کیسے پوری ہوگی؟ اس حوالے سے ماہر معاشیات ڈاکٹر فرخ سلیم نے اے آر وائی نیوز سے خصوصی گفتگو کی۔
انہوں نے بتایا کہ پیٹرول کے مقابلے میں گیس کے معاملات زیادہ پیچیدہ اور دشوار ہیں، جس پر فوری قابو پانا ضروری ہیں، کیونکہ قطر نے اپنا پلانٹ بند کردیا ہے اور جنگ بندی کے بعد اسے دوبارہ فعال کرنے میں کم از کم دو سے تین ہفتے کا وقت بھی لگے گا۔
پیٹرول کی سپلائی اور قمیت سے متعلق سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد حکومت پاکستان نے سعودی حکومت سے گذارش کی ہے کہ ہمارا تیل جو ہرمز کے راستے سے آتا تھا اسے اسٹیٹ آف ہرمز کے بجائے ریڈ سی کی زیر سمندر پائپ لائن کے ذریعے فراہم کیا جائے۔
ماہر معاشیات ڈاکٹر فرخ سلیم کے مطابق جس طرح دنیا بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہورہا ہے اسی تناظر میں پاکستان میں پیٹرول کی قیمت 300 روپے فی لیٹرتک بھی جاسکتی ہے۔
کیا پیر سے ملک بھر میں پیٹرول پمپس بند ہوجائیں گے؟ بڑی خبر آگئی



