حکومت نے مشرق وسطیٰ میں جنگی صورتحال سے عالمی مارکیٹ میں بڑھتی قیمتوں پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 55 روپے فی لیٹر اضافہ کر دیا۔
وفاقی وزرا نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 55روپے فی لیٹر اضافے کا اعلان کیا۔ ملک میں پیٹرول کی نئی قیمت 321.17 روپے فی لیٹر جب کہ ڈیزل کی قیمت 275.7 سے بڑھ کر 335 روپے 86پیسے فی لیٹر ہو گئی۔
حکومت نے اضافے کے بعد پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے.
وزیر خزانہ اور پیٹرولیم کے ہمراہ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ ایران پر حملہ ہوا تو پورے خطے میں جنگ کی صورتحال ہے پچھلے 48گھنٹے میں ترکیہ اور آذربائیجان بھی اس جنگ میں شامل ہو گئے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں عالمی سطح پر بڑھ گئی ہیں۔
وزیرپیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا کہ حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں اضافے کا مشکل فیصلہ کیا ہے مشکل مرحلے میں توانائی کی ضرورتیں پوری کرنے کیلئے کوشاں ہیں، ایران پر حملے کے بعد عالمی سطح پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بےپناہ اضافہ ہوا۔
علی پرویز ملک نے کہا کہ پیٹرول پمپ بند کرکے ناجائز منافع خوری کی کوشش کی گئی ہے پیٹرول پمپس بند کر کے ناجائز منافع خوری کا وزیراعظم نےسخت نوٹس لیا ہے ہماری رہنمائی کرنے پر نائب وزیراعظم ، وزیرخزانہ کا شکریہ ادا کرتا ہوں، اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم غیر معمولات حالات سے گزر رہے ہیں ہمسایہ ممالک میں شروع ہونیوالی جنگ نے خطے کو لپیٹ میں لےلیا ہے یہ معلوم نہیں کہ موجودہ بحران سے کب اور کیسے نکلیں گے۔



