سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے پٹرول کی قیمت کے حوالے سے بڑا انکشاف کردیا، ان کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتیں بڑھانے کے معاملے میں مجھے کرپشن کی بو آرہی ہے۔
اے آر وائی نیوز کے پروگرام اعتراض ہے میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر بہت زیادہ مانیٹرنگ کرتے تو کوئی ذخیرہ اندوزی نہیں کرتا۔
مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھانے سے تو بہتر تھا ٹیکس بڑھا دیتے، پیٹرول، ڈیزل 55روپے مہنگا کرنے سے پاکستان میں بہت مہنگائی آئے گی۔
انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ آنے والی مہنگائی سے پاکستان کے عوام مزید پسے گی، قیمتیں ہی بڑھانی تھیں اس کا بوجھ حکومت کو خود اٹھانا چاہیے تھا۔
سابق ن لیگی وزیر نے کہا کہ معلوم نہیں کیوں پٹرول کی قیمتیں بڑھانے کے معاملے میں مجھے کرپشن کی بو آرہی ہے، ایسا لگتا ہے پٹرول کی قیمت بڑھا کر حکومت کی طرف سے پی ایس او سمیت باقی پیٹرولیم کمپنیوں کو تحفہ دیا گیا ہے۔
مفتاح اسماعیل نے مزید کہا کہ جب سستا پٹرول خریدا تھا تو اسی قیمت پرفروخت کرنا چاہیےتھا، جب مہنگا پٹرول خریدتے تو پھر قیمتیں بڑھا دیتے۔
نیٹ میٹرنگ کا خاتمہ حکومت کی ایک اورغلط پالیسی ہے، مفتاح اسماعیل



