spot_img

ذات صلة

جمع

پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان پالیسی لیول مذاکرات کا دوسرا دور

اسلام آباد : پاکستان اور انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان پالیسی لیول مذاکرات کا دوسرا دور جاری ہے جس میں علاقائی کشیدگی کے تناظر میں متبادل اور ہنگامی معاشی پلان طلب کر لیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف جائزہ مشن اور پاکستانی حکام کے درمیان یہ مذاکرات ورچوئل طریقے سے ہو رہے ہیں، جن میں اسلام آباد، استنبول اور واشنگٹن سے نمائندگان شریک ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف نے خطے کی موجودہ صورتحال کے باعث معیشت، توانائی اور ٹیکس محاصل پر ممکنہ اثرات سے متعلق جامع حکمتِ عملی طلب کی ہے۔

اس کے علاوہ برآمدات، درآمدات اور جاری اصلاحاتی عمل پر پڑنے والے اثرات کے حوالے سے بھی متبادل پلان پیش کرنے کا کہا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق وزارت خزانہ، وزارت توانائی اور وزارت تجارت مشترکہ طور پر ہنگامی اقدامات پر مبنی پلان تیار کریں گی۔ آئی ایم ایف نے پائیدار معاشی ترقی کے لیے اصلاحات کے تسلسل اور ٹیکس وصولی میں اضافے کے اقدامات پر بھی زور دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق مذاکرات کے دوران پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (پیپرا) کے ساتھ بھی ایک طویل سیشن منعقد ہوا جس میں سرکاری اداروں کی خریداری کے نظام میں اصلاحات اور ای پروکیورمنٹ کے نفاذ پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ یکم جولائی 2026 سے سرکاری خریداری کو ای پروکیورمنٹ سسٹم “ای پیڈز” سے منسلک کرنے کا منصوبہ تیار کیا جا رہا ہے، جسے مرحلہ وار تمام وفاقی اداروں میں نافذ کیا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق سال 2027 کے اختتام تک تمام وفاقی سرکاری اداروں کی خریداری ای پیڈز سسٹم سے منسلک کر دی جائے گی، جبکہ سال 2028 کے اختتام تک صوبائی اداروں اور محکموں کو بھی اس نظام میں شامل کیا جائے گا۔

مزید بتایا گیا کہ ای پیڈز سسٹم کو پبلک سیکٹر انٹرپرائزز، ٹیکس ریکارڈز، قومی شناختی ڈیٹابیس اور آڈٹ سسٹمز سے منسلک کیا جائے گا تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔

ذرائع کے مطابق سرکاری خریداری کو شفاف بنانے کے لیے پیپرا جدید نظام اور اصلاحاتی فریم ورک اپنائے گا۔

آئی ایم ایف کو بریفنگ میں یہ بھی بتایا گیا کہ دو ارب روپے سے زائد مالیت کی سرکاری خریداری پر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن لازمی قرار دی جا رہی ہے۔

حکام کے مطابق پیپرا سال 2023 سے جدید اصلاحات پر کام کر رہی ہے جبکہ جولائی 2024 سے اب تک 2200سے زائد سرکاری افسران کو ای پیڈز سسٹم کی تربیت دی جا چکی ہے۔

ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ آئی ایم ایف نے اصلاحاتی عمل کی رفتار برقرار رکھنے اور شفافیت بڑھانے کے اقدامات کو جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا ہے، جبکہ مذاکرات کا سلسلہ آئندہ چند روز تک جاری رہنے کا امکان ہے۔

spot_imgspot_img