spot_img

ذات صلة

جمع

ویڈیو: مونیکا سیلس پر قاتلانہ حملہ، ٹینس کی تاریخ کا بدترین واقعہ

ہیمبرگ : ٹینس کی معروف کھلاڑی مونیکا سیلس کے ساتھ پیش آنے والا افسوسناک اور بدترین واقعہ ٹینس کی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا جب ان پر کھیل کے دوران قاتلانہ حملہ کیا گیا۔

عظیم ٹینس چیمپئن مونیکا سیلس کی زندگی کو اگر ایک طویل داستان کہا جائے تو غلط نہ ہوگا، ایک ایسی داستان جس میں عروج بھی ہے، زخم بھی، جلاوطنی بھی اور بار بار خود کو نئے سرے سے کھڑا کرنے کی ہمت بھی۔

30اپریل 1993 کو جرمنی کے شہر ہیمبرگ میں پیش آنے والا واقعہ ٹینس کی دنیا کے سب سے ہولناک لمحات میں شمار کیا جاتا ہے۔

دنیا کی نمبر ایک کھلاڑی مونیکا سیلس ایک ٹورنامنٹ کے کوارٹر فائنل میں مصروف تھیں کہ اچانک تماشائیوں میں بیٹھے ایک شخص نے کورٹ کے اندر گھس کر ان پر اچانک تیز دھار چھری سے حملہ کردیا۔

برطانوی میڈیا رپورٹ کے مطابق ایک ذہنی مریض مداح نے انہیں چھری مار کر زخمی کیا تھا، جس کے بعد وہ دو سال سے زائد عرصے تک ٹینس سے دور رہیں۔

سیلس اس وقت اپنی حریف میگڈالینا ملیوا کے خلاف کھیل رہی تھیں۔ ایک وقفے کے دوران جب وہ کرسی پر بیٹھیں تو ایک جرمن شہری اچانک ان کے پیچھے سے آیا اور نو انچ لمبی دھاری دار چھری ان کی کمر میں گھونپ دی۔

Tennis Star

چاقو ریڑھ کی ہڈی سے چند ملی میٹر کے فاصلے پر پیوست ہوا، مونیکا سیلس درد سے بری طرح چیخ اٹھیں، اسٹیڈیم میں افراتفری مچ گئی وہاں موجود لوگوں نے حملہ آور کو فوری طور پر قابو کر لیا اور کھلاڑی کو اسٹریچر پر ڈال کر اسپتال منتقل کیا گیا۔

بعد ازاں یہ بات سامنے آئی کہ حملہ آور سیلس کی سب سے بڑی حریف اسٹیفی گراف کا جنون کی حد تک مداح تھا۔ اس نے اعتراف کیا کہ وہ گراف کو دوبارہ نمبر ایک بنتے دیکھنا چاہتا تھا اور اسی جنون میں اس نے یہ قدم اٹھایا۔

اگرچہ کمر میں ہونے والازخم جسمانی طور پر جان لیوا ثابت نہیں ہوا مگر اس واقعے نے سیلس کو ذہنی طور پر گہرا صدمہ پہنچایا، وہ دو سال تک ٹینس سے دور رہیں۔ اس دوران کھیلوں کی سکیورٹی پر دنیا بھر میں سوالات اٹھے اور بڑے ٹورنامنٹس میں حفاظتی انتظامات سخت کیے گئے۔

بہت سے مبصرین کا خیال تھا کہ شاید سیلس کبھی کورٹ میں واپس نہ آسکیں، لیکن انہوں نے حیران کن حوصلے کے ساتھ واپسی کی۔ 1995 میں وہ دوبارہ بین الاقوامی مقابلوں میں اتریں اور جلد ہی ثابت کر دیا کہ ان کی چیمپئن روح اب بھی زندہ ہے۔

یہ واقعہ آج بھی اس بات کی یاد دہانی ہے کہ کھیل کے میدان میں عظمت کے ساتھ خطرات بھی چلتے ہیں مگر کچھ شخصیات اپنی ہمت سے سانحات کو بھی تاریخ کا حصہ بنا دیتی ہیں جیسا کہ مونیکا سیلس نے ثابت کیا۔

سلیس اب اپنی عمر کی 52 بہاریں دیکھ چکی ہیں لیکن وہ آج ایک اور امتحان سے گزر رہی ہیں، مگر اس باہمت خاتون کا لہجہ اور حوصلے آج بھی پُرعزم ہیں۔

monica

گزشتہ دنوں انہوں نے سوشل میڈیا پر جم میں ورزش کرتے ہوئے اپنی تصویر شیئر کی، تصویر میں وہ ورزش کے لباس میں میڈیسن بال تھامے نظر آرہی ہیں۔

انہوں نے لکھا کہ میں شاید اپنے نئے سال کے عزم میں تھوڑی دیر کر بیٹھی ہوں، لیکن میں خود کو یاد دلا رہی ہوں کہ اپنے ساتھ مہربان رہوں اور یہ تسلیم کروں کہ دیر سے آغاز کرنا، بالکل آغاز نہ کرنے سے بہتر ہے۔

اس سے قبل گزشتہ برس انہوں نے دنیا کو بتایا تھا کہ 2022 میں انہیں مائیستھینیا گریوس نامی نایاب اعصابی و عضلاتی بیماری تشخیص ہوئی تھی ایک دائمی کیفیت جو جسم کے عضلات کو کمزور کردیتی ہے۔

ان کے ہاتھوں میں کمزوری اس حد تک بڑھ گئی کہ اپنے بال خشک کرنا بھی مشکل ہونے لگا۔ ایک عالمی چیمپئن، جس نے طاقت اور کنٹرول سے تاریخ بدلی تھی، اب روزمرہ کے کاموں میں اپنی توانائی کو بکھرتا دیکھ رہی تھی۔

اس بیماری دریافت ہونے کے تین سال بعد انہوں نے مانا کہ اسے سمجھنے اور اس پر بات کرنے میں وقت لگا۔ یہ کیفیت روزمرہ زندگی پر گہرا اثر ڈالتی ہے۔ ڈبل وژن، بازوؤں میں کمزوری اور اچانک یہ احساس کہ آپ کو اپنی رفتار بدلنی ہوگی۔

وہ کہتی ہیں کہ جیسے ٹینس میں کبھی کبھی ری سیٹ کرنا پڑتا ہے، ویسے ہی زندگی میں بھی ہر بار نئے حالات اور نئی حکمت عملی مرتب کرنا پڑتی ہے۔

spot_imgspot_img