spot_img

ذات صلة

جمع

وفاقی اردو یونیورسٹی کا ناکام سینیٹ اجلاس، بہانہ بنا کر تدریسی عمل بھی معطل

کراچی (04 ستمبر 2025): وفاقی اردو یونیورسٹی نے گزشتہ روز ایک انوکھی منطق کے تحت اس وقت تدریسی عمل معطل کیا جب یونیورسٹی کا سینیٹ اجلاس منعقد ہو رہا تھا۔

وفاقی اردو یونیورسٹی برائے فنون سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے سینیٹ کے اجلاس کے سلسلے میں جاری نوٹیفکیشن میں بتایا گیا کہ تدریس راستوں کی بندش کی وجہ سے معطل کی جا رہی ہے، تاہم اس سے قبل یونیورسٹی سینیٹ کے کسی بھی اجلاس کے موقع پر تدریسی عمل معطل نہیں رہا ہے۔

اجلاس میں وفاقی اردو یونیورسٹی کے سینیٹ اجلاس میں وائس چانسلر ضابطہ خان شنواری کو یونیورسٹی کے مالی اور انتظامی معاملات پر گفتگو کرنی تھی، یونیورسٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس موقع پر طلبہ اور اساتذہ کے ممکنہ احتجاج کے پیش نظر تدریسی عمل معطل کیا گیا۔ یونیورسٹی ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ یونیورسٹی کے مالی اور انتظامی معاملات میں بے ضابطگیوں کے امور بھی سینیٹ اجلاس کے ایجنڈے کا حصہ ہے۔

بلا جواز تدریسی عمل معطل کرنے پر طلبہ اور اساتذہ کی جانب سے افسوس کا اظہار کیا گیا، ان کا مؤقف تھا کہ مون سون بارشوں کے دوران تدریسی عمل پہلے ہی متاثر رہا ہے۔

دوسری طرف وفاقی اردو یونیورسٹی کے مالی اور انتظامی بحران پر اراکین سینیٹ کی اکثریت نے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ظابطہ خان شنواری کی جانب سے طلب کردہ سینیٹ کے اجلاس میں شرکت سے معذرت کر لی۔ اجلاس میں وفاقی وزارت تعلیم اور ہایئر ایجوکیشن کمیشن کے نمائندے، انجمن ترقی اردو کے واجد جواد، شکیل الرحمٰن، خالد انیس، سعید اللہ والا، شاہد شفیق اور متعدد دیگر اراکین سینیٹ نے بھی معذرت کی۔

گزشتہ روز سینیٹ کے اجلاس میں صرف ڈپٹی چیئر سینیٹ ڈاکٹر جمیل احمد خان، ڈاکٹر کمال حیدر، ڈاکٹر فرحان شفیق اور سروش حشمت لودھی اور ڈاکٹر خالدہ تنویر موجود تھے، اجلاس کا کورم مکمل نہ ہونے کی وجہ سے اسے ملتوی کر دیا گیا کیوں کہ اس صورت حال میں سینیٹ میں کوئی فیصلہ ہونا ممکن نہ تھا۔

spot_imgspot_img