spot_img

ذات صلة

جمع

سوئٹزرلینڈ پنالٹی کک پر کوارٹر فائنل میں پہنچ گیا

وینکوور (08 جولائی 2026): فیفا ورلڈ کپ 2026 میں...

امریکا نے ایران پر ایک بار پھر فضائی حملے شروع کردیے

امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا ہے کہ امریکا کی...

لاپتہ کارگو طیارے سے متعلق اہم ترین معلومات سامنے آگئیں

کراچی : شارجہ سے کراچی آنے ہوئے حادثاتی طور...

موٹاپے اور ذیابیطس کی نئی دوا آزمائش میں کامیاب

بیجنگ / نیویارک : موٹاپے اور ٹائپ 2 ذیابیطس...

کراچی میں بڑی گیس چوری پکڑی گئی

کراچی کے علاقے ابوالحسن اصفہانی روڈ پر ایس ایس...

نیٹ فلکس : نئی تھرلر فلم کا پہلا سنسنی خیز ٹریلر جاری

لاس اینجلس : نیٹ فلکس پر حال ہی میں سنسنی خیز تھرلر فلم کا ٹریلر جاری کیا گیا ہے، جس نے آتے ہی دھوم مچادی، منفرد کہانی اور تجسس کے باعث شائقین بے چینی سے فلم کی ریلیز کا انتظار کررہے ہیں۔

ہالی ووڈ کی نئی سائنس فکشن اور تھرلر فلم ’دی لاسٹ ہاؤس‘ کا پہلا سنسنی خیز ٹریلر جاری کر دیا گیا ہے، جس میں آسکر نامزد اداکار ویگنر مورا اور معروف اداکارہ گریٹا لی ایک ایسے خاندان کا کردار نبھا رہے ہیں جو اچانک اپنے ہی گھر میں قید ہو جاتا ہے اور باہر نکلنے کا کوئی راستہ نہیں پاتا۔

فلم کی کہانی ایک عام خاندان کے گرد گھومتی ہے، جو ایک روز یہ جان کر حیران رہ جاتا ہے کہ ان کے گھر کے تمام دروازے اور کھڑکیاں مکمل طور پر بند ہوچکی ہیں۔ باہر موسلا دھار بارش جاری ہے، مگر خاندان گھر سے باہر قدم نہیں رکھ سکتا۔

اسی اذیت ناک صورتحال میں کئی روز حتیٰ کہ کئی سال گزر جاتے ہیں لیکن اس خاندان کے سامنے پراسرار قید کی وجہ سامنے نہیں آتی۔

فلم میں ویگنر مورا “جیسن” جبکہ گریٹا لی “این” کا کردار ادا کر رہی ہیں، دونوں اپنے بچوں کو اس خوفناک صورتحال کی کوئی تسلی بخش وضاحت دینے سے قاصر ہیں، جبکہ وقت گزرنے کے ساتھ خوراک کی کمی، ذہنی دباؤ اور بقا کی جدوجہد شدت اختیار کر جاتی ہے۔

فلم کے ہدایت کار لوئی لیتریئر کا کہنا ہے کہ “دی لاسٹ ہاؤس” صرف جسمانی بقا کی کہانی نہیں بلکہ انسانی نفسیات، خوف، امید اور خاندانی رشتوں کی آزمائش کو بھی منفرد انداز میں پیش کرتی ہے۔ ان کے مطابق فلم دیکھنے کے بعد ناظرین اپنے گھر اور خاندان کو پہلے جیسی نظر سے نہیں دیکھ سکیں گے۔

اداکارہ گریٹا لی نے کہا کہ مجھے ہمیشہ بقا پر مبنی کہانیاں پسند رہی ہیں، اسی لیے اس فلم کی منفرد کہانی نے انہیں فوراً اپنی طرف متوجہ کیا، فلم نہ صرف سنسنی خیز ہے بلکہ انسان کی زندگی، انتخاب اور مشکل حالات میں فیصلوں سے متعلق اہم سوالات بھی اٹھاتی ہے۔

فلم کی حقیقت پسندی کو بڑھانے کے لیے پروڈکشن ٹیم نے معروف سروائیول ماہر میگن ہائن کی خدمات حاصل کیں، جنہوں نے یہ مشورے دیے کہ اگر کوئی خاندان واقعی ایسی غیر معمولی صورتحال میں پھنس جائے تو وہ محدود وسائل کے ساتھ کس طرح زندہ رہ سکتا ہے۔

اداکار ویگنر مورا کا کہنا ہے کہ اس فلم کی کہانی ہر انسان سے جڑی ہوئی محسوس ہوتی ہے کیونکہ ہر کوئی کسی نہ کسی خاندان کا حصہ ہے، اور مشکل وقت میں اپنے پیاروں کی حفاظت اور بقا کی خواہش ایک فطری انسانی جذبہ ہے۔

“The Last House” کو اس سال کی نمایاں سائنس فکشن تھرلر فلموں میں شمار کیا جا رہا ہے، جبکہ ٹریلر نے شائقین میں فلم کی ریلیز کے لیے بے چینی مزید بڑھا دی ہے۔

گھر کے باہر کچھ خوفناک خطرات بھی منڈلا رہے ہیں جبکہ بعض خطرے گھر کی چار دیواری کے اندر سے جنم لیتے ہیں۔ ’دی لاسٹ ہاؤس‘ 7 اگست کو صرف نیٹ فلکس پر ریلیز ہوگی۔

 

spot_imgspot_img