مشرقِ وسطیٰ میں ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے خطے کو ایک سنگین بحران سے دوچار کردیا ہے، جہاں حالیہ فوجی کارروائیوں اور سفارتی ناکامیوں نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنادیا ہے۔
اے آر وائی نیوز کے پروگرام خبر میں میزبان محمد مالک نے مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر خصوصی تجزیہ کیا اور ایران پرحملے کی وجوہات بیان کیں۔
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ دنوں آبنائے ہرمز کے قریب امریکی کارروائی میں ایران کے ایک اہم مقام پر بھاری بمباری کی گئی، جس کے بعد خطے میں تناؤ میں نمایاں اضافہ ہوا۔
اس کے ساتھ ہی ایران کی اعلیٰ قیادت کو بھی نشانہ بنایا گیا، جن میں سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سابق سربراہ علی لاریجانی، بسیج فورس کے کمانڈر غلام رضا سلیمانی اور وزیرِ انٹیلی جنس اسماعیل خطیب شامل ہیں۔
دوسری جانب اسرائیل نے ایران اور قطر کے مشترکہ گیس فیلڈ (پارس / نارتھ فیلڈ) پر حملہ کیا، جس پر قطر نے سخت ردعمل دیتے ہوئے اسے خطے کے امن کے لیے خطرناک اقدام قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے اس کے جواب میں خلیجی ممالک کی اہم آئل ریفائنریوں اور تنصیبات کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی، جن میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر کے اہم توانائی مراکز شامل ہیں۔
اس حوالے سے متحدہ عرب امارات نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایران کی جانب سے داغے گئے 13 بیلسٹک میزائل اور 27 ڈرونز کو تباہ کردیا، ماہرین کے مطابق اگر توانائی تنصیبات پر حملے بڑھتے ہیں تو یہ بحران عالمی سطح پر ایک بڑے توانائی کے بحران میں تبدیل ہوسکتا ہے۔
ادھر سعودی عرب میں وزرائے خارجہ کی اہم کانفرنس جاری ہے، جس میں خطے کی صورتحال پر غور کیا جا رہا ہے، تاہم یہ واضح نہیں کہ آیا یہ سفارتی کوششیں کشیدگی کم کرسکیں گی یا نہیں؟۔
ایران امریکہ خفیہ مذاکرات کی ناکامی
جنگی صورتحال سے قبل ایران امریکہ خفیہ مذاکرات سے متعلق تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ مہینوں میں خفیہ سفارتی مذاکرات جاری تھے، جن میں عمان اور قطر نے ثالثی کا کردار ادا کیا جبکہ برطانیہ کے قومی سلامتی کے مشیر بھی اس عمل میں شامل تھے۔
اس حوالے سے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ نے ایران پر حملہ کرنے سے متعلق بتایا تھا کہ ہم اس جنگ میں کیوں داخل ہوئے پہلے ان کا کہنا تھا کہ ایران جوہری ہتھیار تیار کر رہا ہے لیکن بین الاقوامی ایجنسی فار اٹامک انرجی کنٹرول نے کہا کہ ایسی کوئی بات نہیں ہے۔
مذاکرات میں ایران نے جوہری پروگرام کو محدود کرنے، یورینیم افزودگی کو کنٹرول کرنے اور عالمی نگرانی قبول کرنے پر آمادگی ظاہر کی تھی جبکہ امریکہ کی جانب سے بار بار شرائط میں تبدیلی کی گئی، جس سے مذاکراتی عمل متاثر ہوا۔
رپورٹ کے مطابق ایران نے 60 فیصد افزودہ یورینیم کو کم کرنے اور اسے عالمی ایجنسی کی نگرانی میں رکھنے کی پیشکش بھی کی تھی، تاہم حتمی معاہدے سے قبل ہی امریکہ کی جانب سے اچانک فوجی کارروائی شروع کردی گئی، جس کے بعد مذاکرات مکمل طور پر منقطع ہوگئے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت نے نہ صرف سفارتی عمل کو نقصان پہنچایا بلکہ خطے کو ایک بڑے تصادم کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔



