spot_img

ذات صلة

جمع

’’مغربی ممالک کی حمایت کے خاتمے سے اسرائیل کو شدید دھچکا لگا‘‘

معروف تجزیہ نگار ڈاکٹر قمر چیمہ کا کہنا ہے کہ غزہ جنگ کے بعد مغربی ممالک کی حمایت کے خاتمے سے اسرائیل کو شدید دھچکا لگا ہے۔

اے آر وائی نیوز کے پروگرام دی رپوٹرز میں انہوں نے آزاد فلسطینی ریاست، امریکی صدر ٹرمپ کے حالیہ غزہ امن منصوبے اور اسرائیل کے کردار سے متعلق اہم گفتگو کی۔

انہوں نے کہا کہ مغربی ممالک کی جانب سے فلسطین کو آزاد ریاست تسلیم کرنے کا باضابطہ اعلان خوش آئند ہے، ان ممالک میں برطانیہ، کینیڈا، فرانس اور آسٹریلیا سرفہرست ہیں۔ مغربی ممالک کے اس اقدام سے اسرائیل کو شدید دھچکا لگا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیل اس وقت عالمی سطح پر آئسولیشن میں ہے کیونکہ دنیا کا کوئی ملک اس کے ساتھ کھڑا ہونے کو تیار نہیں۔

اس کے علاوہ اسرائیل کے اندر بھی رائے عامہ بہت تقسیم ہوچکی ہے غزہ جنگ کو طویل کرنے کیخلاف میڈیا، اپوزیشن اراکین اور دیگر مکاتب فکر میں اکثر یہی بات کی جاتی ہے۔

مختلف ممالک میں ہونے والے اسرائیل مخالف بڑے بڑے عوامی مظاہروں سے بھی اسے اس بات بخوبی اندازہ ہوچکا ہے کہ عالمی سطح پر اس کی مقبولیت اور حمایت میں نمایاں کمی آرہی ہے۔

اسرائیل کی غیر مشروط حمایت : امریکا کو فائدہ یا نقصان 

انہوں نے کہا کہ امریکا کو بھی اسرائیل کی کھلم کھلا اور غیر مشروط حمایت سے متعدد مسائل کا سامنا ہے، امریکی صدر ٹرمپ کو اس بات کا ادراک ہے کہ کس طرح ماضی کی ڈیمو کریٹ حکومت کی مقبولیت میں کمی آئی جس کی بڑی وجہ اسرائیل کی غیر مشروط حمایت تھی۔

صدر ٹرمپ چاہتے ہیں کہ ان کو بحیثیت ریپبلک رہنما اپنی سیاسی مقبولیت کو برقرار رکھنے کیلیے اس مسئلہ پر بھی قابو پانا ہوگا اور اگر یہ جنگ جاری رہی تو امریکا کے اندر بھی مشکلات درپیش ہوں گی۔

ڈاکٹر چیمہ نے کہا کہ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ صدر بننے کے بعد ٹرمپ اب تک اسرائیل نہیں گئے بلکہ عرب ممالک کے دورے کرکے واپس آگئے جس کا مطلب ہے کہ ہم تمہارے ساتھ تب چلیں گے جب تم ہماری بات مانو گے۔

انہوں نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ صدر ٹرمپ کا غزہ امن منصوبہ تمام فریقین کیلیے قابل قبول ہوگا اور اس معاہدے سے ہونے والے عالمی امن میں پاکستان کا بھی اہم کردار ہے۔  سب سے بڑھ کر غزہ کے معصوم لوگوں پر جو ظلم و ستم ہورہا ہے اس کا خاتمہ ہوگا اور وہ سکون کا سانس لے سکیں گے۔

spot_imgspot_img