spot_img

ذات صلة

جمع

مشرق وسطیٰ جنگ میں ثالث بننا پاکستان کیلیے تاریخی لمحات ہیں، خواجہ آصف

اسلام آباد (28 مارچ 2026): وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ جنگ میں ثالث بننا پاکستان کیلیے تاریخی لمحات ہیں، دعا ہے کہ کامیابی کا سہرا اسلام آباد کے سر پر بندھے۔

اے آر وائی نیوز کے پروگرام ’اعتراض ہے‘ میں خواجہ آصف نے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کیلیے پاکستان کردار ادا کر رہا ہے جو بڑا اعزاز اور کامیابی ہے، ملک کو 78 سالہ تاریخ میں اس مقام پر کھڑا کیا جو پہلے نہیں ملا تھا۔

خواجہ آصف نے کہا کہ خلیجی ممالک، ایران و دیگر ممالک پاکستان پر اعتماد کر رہے ہیں جبکہ سپر پاور امریکا بھی پاکستان پر اعتماد کر رہا ہے جو سفارتی کامیابی ہے، ثالثی کے نتائج پر ابھی بات کرنے پر احتیاط کر رہے ہیں۔

وزیر دفاع نے کہا کہ بھارت کو ایک سال قبل جنگ میں ہزیمت اٹھانی پڑی آج وہ فرسٹریشن کا شکار ہے، پاکستان کی مسلح افواج کی کامیابی ساری دنیا نے دیکھی جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی بار بار پاکستان کی کامیابی کا ذکر کرتے رہے۔

’اسرائیل اور بھارت کی بددیانتی اور بغض سب کے سامنے ہے۔ نیتن یاہو اپنی بقا کیلیے پوری دنیا کو جنگ میں دھکیلنا چاہتا ہے جبکہ بھارت اپنی حرکتوں کی وجہ سے دنیا کی اسکرین سے غائب ہو چکا ہے۔ ہر محاذ پر شکست کے بعد بھارت بوکھلاہٹ کا شکار ہے۔ اسرائیل اور بھارت عالمی سطح پر آئسولیٹ ہو چکے ہیں۔‘

یہ بھی پڑھیں: ایران کی اسرائیل پر میزائلوں کی بارش، میزائلوں پر شکریہ پاکستان بھی درج تھا

خواجہ آصف نے واضح کیا کہ اگر بھارت ہمارے ساتھ پنگا لے گا تو اسے گھر تک چھوڑ کر آئیں گے۔

پروگرام میں وزیر دفاع نے کہا کہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور تحریک طالبان افغانستان (ٹی ٹی اے) ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں دونوں کے خلاف ملٹری ایکشن لیا ہے، جارحیت کا جواب آپریشن کی صورت میں دینے کے نتائج سامنے آ رہے ہیں۔

خواجہ آصف کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں ان دہشتگردوں کیخلاف ایکشن جلد لینا چاہیے تھا، ترکیہ اور قطر نے مسئلے کا حل نکالنے کی کوششیں کی ہیں، دونوں دوست ممالک نے یقین دہانی کروائی ہے کہ ہم ان کی مدد نہیں کریں گے۔

انہوں نے واضح کیا کہ ہمیں تحریری طور پر یقین دہانی نہیں کروائی گئی جس کی وجہ سے مذاکرات کامیاب نہیں ہو سکے۔

ان کا کہنا تھا کہ تھرڈ پارٹی کے کہنے پر مذاکرات چل رہے ہیں، تھرڈ پارٹی کون ہے اس سوال کا جواب نہیں دے سکتا، مذاکرات کے نتائج نہ آئے تو ہمارے پاس کارروائی کا آپشن موجود ہے۔

spot_imgspot_img