spot_img

ذات صلة

جمع

غلام علی آزاد بلگرامی: بے مثل مؤرخ اور باکمال تذکرہ نویس

علم و ادب کی دنیا کے بعض نام ایسے ہیں جن کی ساری عمر پڑھنے لکھنے میں گزری اور وہ اپنی تصانیف کی شکل میں ایک بیش قیمت خزانہ ہمارے لیے چھوڑ کر رخصت ہوگئے۔ آج شاذ ہی غلام علی آزاد بلگرامی کا تذکرہ ہوتا ہے، مگر اپنے دینی ذوق و شوق کے ساتھ علمی و تحقیقی کاموں کی وجہ سے ان کا شمار متحدہ ہندوستان کی عالم فاضل شخصیات میں کیا جاتا ہے۔

غلام علی آزاد بلگرامی نے شعر و ادب، تاریخ اور تذکرہ نگاری میں بڑا نام و مرتبہ پایا اور ان کی تصانیف کو بہت اہمیت حاصل ہے۔ وہ مملکتِ آصفیہ میں نواب ناصر جنگ کے استاد تھے۔ غلام علی آزاد کا تعلق بلگرام سے تھا۔ ان کو عربی، فارسی، اردو اور ہندی زبانوں پر عبور حاصل تھا۔ غلام علی آزاد جب اورنگ آباد آنے تو اپنے علم و فضل کے سبب دربار میں جگہ پائی اور ان کی بڑی عزّت اور پذیرائی کی گئی۔

اپنے زمانہ کے اس شاعر، مؤرخ اور مصنف نے 1704ء میں اس دنیا میں آنکھ کھولی تھی۔ انھوں نے تصنیف و تالیف کا سلسلہ شروع کیا تو بالخصوص اپنی جائے پیدائش کی نسبت سے اپنے نام کے ساتھ بلگرامی بھی لکھنے لگے۔ آزاد بلگرامی کو حسّان الہند کہا جاتا ہے۔ 15 ستمبر 1786ء کو غلام علی آزاد بلگرامی اورنگ آباد میں انتقال کرگئے تھے۔ غلام علی آزاد بلگرامی فنِ شعر گوئی اور تاریخ میں‌ گویا یدِ طولیٰ رکھتے تھے۔ ان کے بارے میں لکھا گیا ہے کہ وہ حلیم الطبع، منکسر مزاج اور متواضع انسان تھے۔ علامہ آزادؔ بلگرامی نے اپنی شاعری میں جابجا حب الوطنی کااظہار کیا ہے۔ طبعاً ہندی تھے فطرتاً عربی اور اس کا اظہار اشعار میں خوب ہوتا ہے۔ انھوں‌ نے عربی میں‌ کلام کہا اور دینی ذوق و شوق کی وجہ سے مذہبی حلقوں میں بھی مقبول رہے۔ ان کا حافظہ نہایت قوی تھا اور کوئی واقعہ، شعر وغیرہ ایک بار پڑھ لیتے یا کسی کی زبانی سنتے تو ذہن نشیں کرلیتے اور موقع کی مناسبت سے سناتے یا اپنی تحریر میں شامل کرتے۔

غلام علی آزاد بلگرامی کی انفرادیت یہ تھی کہ وہ نہ صرف بیک وقت مختلف علوم و فنون میں طاق تھے اور متعدد زبانوں پر کامل عبور رکھتے تھے بلکہ اس دور کے اہلِ قلم کے مقابلے میں انھیں نثر اور نظم دونوں پر یکساں قدرت حاصل تھی۔ وہ اکثر ہم عصروں کی طرح‌ شعر و شاعری تک محدود نہیں رہے بلکہ دینی اور ادبی میدان میں تحقیق کے ساتھ تصنیف و تالیف کا کام نہایت محنت اور لگن سے انجام دیا اور کتابی شکل میں بڑا سرمایہ یادگار چھوڑا۔ ان کی نثری تالیف میں’’شمامہ العنبر فی ما ورد فی الہند من سید البشر‘‘ کے علاوہ سبحۃ المرجان جو دراصل علمائے ہند کا تذکرہ ہے، نہایت وقیع و مستند کتاب ہے۔ اسی طرح یدِ بیضا کو بھی شہرت ملی، جو عام شعرا کے تذکرے سے سجائی گئی ہے۔ خزانۂ عامرہ ایک اور یادگار کتاب ہے جس میں صلہ یافتہ شعرا کا تذکرہ ہے، اسی طرح ایک کتاب سرورِ آزاد میں‌ غلام علی آزاد بلگرامی نے ہندی نژاد شعرا پر اپنی تحقیق کے بعد معلومات اکٹھی کردی ہیں۔

ان کی ایک مشہور تصنیف مآثر الکرام ہے جس پر غلام علی آزاد بلگرامی کو بہت سراہا گیا جو دراصل علمائے بلگرام کے تذکرے پر مبنی تصنیف ہے۔ اس کے علاوہ روضۃُ الاولیا نے بھی بلگرامی مرحوم کی علمی حیثیت اور مرتبہ میں اضافہ کیا جس میں انھوں نے اولیائے اورنگ آباد پر مستند اور جامع معلومات فراہم کی ہیں۔

spot_imgspot_img