spot_img

ذات صلة

جمع

صرف 12 منٹ کی غلطی یا 27 سال کی بدنظمی؟ پی آئی اے کی تاریخ کا خوفناک سانحہ

آج سے 34 سال قبل پی آئی اے کی تاریخ کا المناک اور خوفناک حادثہ پیش آیا جس میں عملے کے 12 افراد سمیت 155 مسافر جاں بحق ہوئے، اس سانحہ کو دی فال آف دی ٹائٹن کا نام دیا گیا۔

28 ستمبر 1992 کو پی آئی اے کی ائیر بس اے 300 پرواز نمبر 268 نیپال کے دارالحکومت کٹھمنڈو میں لینڈنگ کی صرف 12 منٹ کی دوری پر بادلوں سے ڈھکے ہوئے پہاڑوں سے ٹکرا کر تباہ ہوگئی۔

کراچی سے کھٹمنڈو جانے والی پی آئی اے کی بدقسمت پرواز 268 محض چند منٹ کی تکنیکی غلطی کا نتیجہ نہیں تھی، بلکہ ماہرین کے مطابق یہ حادثہ دہائیوں پر محیط بدانتظامی کمزور نظام اور خطرناک غفلتوں کا نتیجہ تھی۔

اس حادثے کی بڑی وجہ جہاز کی مقرر کردہ بلندی سے تقریباً 1600 فٹ نیچی پرواز تھی، یہ پاکستان کی تاریخ کا بیرون ملک جانے والے ہوائی جہاز کا سب سے بڑا سانحہ تھا۔

پرواز کے آخری لمحات میں طیارہ درست حالت میں تھا مگر لینڈنگ کے دوران پائلٹس کی بلندی اور فاصلے کے حساب میں معمولی سی غلطی اسے خطرناک حد تک نیچے لے آئی جو بالآخر تباہی کا سبب بنی۔

تحقیقات کے مطابق طیارہ مکمل کنٹرول میں ہونے کے باوجود پہاڑی سے ٹکرا گیا، پائلٹس نے لینڈنگ کے دوران مطلوبہ اونچائی سے پہلے نیچے آنا شروع کردیا تھا جس سے حادثہ پیش آیا۔

پی آئی اے

ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ حادثہ محض ایک پرواز کی غلطی نہیں بلکہ ادارہ جاتی کمزوریوں کا بھی نتیجہ تھا جن میں میرٹ کے بجائے سفارش پر بھرتیاں، سیاسی مداخلت، عملے کی تربیت و نگرانی کا کمزور نظام اور حفاظتی اصولوں کو نظر انداز کرنا شامل تھے۔

واضح رہے کہ اس حادثے سے صرف 59 دن قبل تھائی ایئر ویز کی ایک پرواز بھی اسی علاقے میں حادثے کا شکار ہوئی تھی مگر اس کے باوجود حفاظتی اقدامات نہیں کیے گئے تھے۔

پی آئی اے طیارہ حادثے کو چار سال مکمل، ہوشربا حقائق منظرعام پر

spot_imgspot_img