spot_img

ذات صلة

جمع

سویا بین آئل : کس بیماری کا سبب بن سکتا ہے، نئی تحقیق نے سب کو فکرمند کردیا

ماہرین صحت نے انکشاف کیا ہے کہ سویا بین آئل جسم میں اس کے پراسیس ہونے کے طریقے کی وجہ سے وزن میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ تیل گھریلو کھانوں میں زیادہ استعمال نہیں ہوتا، لیکن سلاد ڈریسنگز، مارجرین اور چپس جیسی پراسیسڈ اشیاء میں عام پایا جاتا ہے۔

امریکا میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والا کھانا پکانے کا تیل سویا بین آئل ایک مخصوص جینیاتی عمل کے ذریعے موٹاپے کا باعث بن سکتا ہے۔

یہ انکشاف یونیورسٹی آف کیلیفورنیا ریور سائیڈ کی ایک نئی تحقیق میں سامنے آیا ہے۔ محققین کے مطابق مسئلہ تیل میں نہیں بلکہ جسم کے اندر اس کے پراسیس ہونے کے طریقے میں ہے، جو زیادہ مقدار میں استعمال کرنے پر وزن بڑھنے کا سبب بن سکتا ہے۔

تحقیق کے دوران سائنس دانوں نے چوہوں کو ایسی غذائیں دیں جن میں چکنائی کی مقدار زیادہ تھی اور اس کا بڑا حصہ سویا بین آئل پر مشتمل تھا۔ عام چوہوں میں تیزی سے وزن بڑھا، جبکہ جینیاتی طور پر تبدیل شدہ چوہے دُبلے رہے۔

ان خاص چوہوں کے جگر میں ’ایچ این ایف فور اے‘ نامی پروٹین کی ایک مختلف قسم پیدا ہوتی تھی، جو جسم میں سویا بین آئل میں موجود بنیادی چکنائی لینولک ایسڈ کو مختلف انداز میں پراسیس کرتی ہے۔

محققین نے دریافت کیا کہ اصل مسئلہ تیل خود نہیں ہے بلکہ وہ کیمیائی مرکبات ہیں جو جگر اس تیل کو توڑ کر بناتا ہے۔

لینولک ایسڈ جگر میں جا کر آکسی لپنز میں تبدیل ہوتا ہے، جن کی بعض اقسام جسم میں سوزش اور چربی کے ذخیرے سے جڑی ہوئی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ سویا بین آئل بذات خود مضر نہیں ہے، لیکن اس کا زیادہ استعمال جسم میں ایسے میٹابولک راستے متحرک کر دیتا ہے جن سے جسم نمٹنے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔

تحقیق کے مطابق گزشتہ ایک صدی کے دوران امریکا میں سویا بین آئل کا استعمال پانچ گنا بڑھ چکا ہے اور اب یہ مجموعی کیلوریز کے تقریباً 10 فیصد حصے پر مشتمل ہے۔

spot_imgspot_img