ویسے تو سردیوں کا موسم خوشگوار ہوتا ہے مگر بہت سے افراد کے لیے یہ جوڑوں کے درد اور اکڑاؤ کا باعث بن جاتا ہے۔
خاص طور پر گٹھیا، لوپس اور فائبرومائیلجیا کے مریض سرد موسم میں درد میں اضافہ محسوس کرتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق موسم کی تبدیلی سے جوڑوں میں تکلیف ایک حقیقی اور طبی طور پر تسلیم شدہ مسئلہ ہے۔
سرد ہوا درد کی ایک بڑی وجہ ہے
طبی رپورٹس کے مطابق سردیوں میں ہوا کے دباؤ میں تبدیلی پٹھوں اور جوڑوں کے اردگرد موجود ٹشوز میں سوجن پیدا کرسکتی ہے، جس سے اکڑاؤ اور درد بڑھ جاتا ہے، اگرچہ اس کی مکمل وجہ واضح نہیں، تاہم ماہرین اس تعلق پر متفق ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سرد موسم میں خون کی نالیاں سکڑ جاتی ہیں، جس سے جوڑوں تک خون کی روانی کم ہو جاتی ہے۔ اس کے نتیجے میں پٹھے سخت ہوجاتے ہیں، جوڑوں کی لچک کم ہو جاتی ہے۔
اس کے علاوہ جوڑوں کا چکناہٹ والا سیال گاڑھا ہوجاتا ہے جس سے حرکت مشکل اور تکلیف دہ محسوس ہوتی ہے۔
کن افراد میں خطرہ زیادہ ہوتا ہے؟
ماہرین کے مطابق جو افراد سردیوں میں زیادہ متاثر ہوتے ہیں ان میں عمر رسیدہ۔ ذیابیطس اور تھائیرائیڈ کے مریض۔ گٹھیا کے مریض۔ وہ افراد جو سردیوں میں جسمانی سرگرمی کم کر دیتے ہیں اور خاص طور پر وہ کھلاڑی جو وارم اپ کو نظر انداز کرتے ہیں شامل ہیں۔
جوڑوں کے درد سے بچاؤ کے آسان طریقے یہ ہیں۔
اس سلسلے میں ماہرین چند سادہ مگر مؤثر تدابیر تجویز کرتے ہیں۔ ان کے مطابق اپنے جوڑوں کو گرم رکھیں اس کیلیے گرم کپڑے پہنیں، ہیٹنگ پیڈ یا گرم پانی کی پٹّی استعمال کریں۔
گھر کے اندر چہل قدمی کریں، یوگا یا ہلکی ورزش جوڑوں کو متحرک رکھتی ہے۔ متوازن غذا اپنائیں
مچھلی، اخروٹ اور السی جیسی غذائیں سوزش کم کرنے میں مدد دیتی ہیں، وٹامن ڈی اور پانی کا مناسب استعمال بھی ضروری ہے۔
درست انداز سے بیٹھنے کا انداز اپنائیں، غلط پوسچر جوڑوں پر دباؤ بڑھاتا ہے، اس لیے سیدھا بیٹھنا اہم ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سردیوں میں تھوڑی سی احتیاط اور روزمرہ عادات میں معمولی تبدیلیاں جوڑوں کے درد کو نمایاں حد تک کم کر سکتی ہیں، جس سے سرد موسم بھی نسبتاً آرام دہ ہو جاتا ہے۔
یاد رکھیں !! اگر جوڑوں میں غیر معمولی درد، سوجن یا مسلسل اکڑاؤ محسوس ہو تو آرام کریں اور ماہرِ امراضِ ہڈیوں سے رجوع کریں۔



