spot_img

ذات صلة

جمع

سانحہ گل پلازہ کی انکوائری رپورٹ ایک مذاق ہے، اپوزیشن لیڈر سندھ

کراچی: اپوزیشن لیڈر سندھ علی خورشیدی نے کہا ہے کہ سانحہ گل پلازہ کی انکوائری رپورٹ ایک مذاق ہے، ہم نے اسی لیے آزادانہ تحقیقات کا کہا تھا۔

اے آر وائی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی نے سانحہ گل پلازہ کی انکوائری رپورٹ سے متعلق کہا کہ گل پلازہ ایک قومی سانحہ ہے، حکومت سندھ نے جو انکوائری کی ہے اور جو اس کی تفصیلات سامنے آئی ہیں وہ ایسا لگ رہا ہے کہ مذاق ہے۔

انھوں نے کہا کہ بچے کی وجہ سے آگ لگتی ہے اور وہ آگ 7 سے 8 منٹ میں 4 فلورز کو نیست و نابود کردیتی ہے، پہلے دن سے ایم کیو ایم کی جانب سے آزادانہ جوڈیشل انکوائری کی بات کی جارہی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: گل پلازہ میں کس وقت بڑے حادثے کی نشاندہی کی گئی؟ دستاویز میں ہوشربا انکشاف

یہ مطالبہ اس لیے کیا جارہا تھا کہ اس سانحے کے محرکات اور وجوہات کا پتا لگ سکے، اور پتہ لگ سکے کہ کن اداروں کی کوتاہی کی وجہ اسے اس آگ پر قابو نہیں پایا جاسکا۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ سندھ حکومت کی انکوائری رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گل پلازہ میں گراؤنڈ فلور پر پھولوں کی دکان میں بچے کے ہاتھوں آگ لگی، آگ تیزی سے پھیلی اور ایئرکنڈیشن کے ڈکٹس کی طرف پھیلی جس کے بعد آگ نے پوری عمارت کو لپیٹ میں لے لیا۔

سانحہ گل پلازہ کی انکوائری رپورٹ وزیراعلیٰ سندھ کو پیش کردی گئی ہے، ذرائع نے بتایا کہ چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو گل پلازہ سانحہ پر سندھ حکومت کے افسران کی کارکردگی پر ناراض ہیں۔

میئرکراچی مرتضیٰ وہاب بھی انکوائری رپورٹ کے بعد مشکل میں آسکتے ہیں, کمشنر کراچی کی رپورٹ کی روشنی میں بڑے افسران کے خلاف ایکشن کا فیصلہ ہو گا۔

گل پلازہ پر پیش کی گئی تحقیقاتی رپورٹ پر کمشنر خود عہدے سے ہٹا دیےجائیں گے, سانحہ گل پلازہ انکوائری رپورٹ میں اداروں کی غفلت سامنے آئی ہے جس پر کمشنر، ڈپٹی کمشنر، اسسٹنٹ کمشنر، چیف فائربریگیڈ افسر کو ہٹایا جائے سکتا ہے۔

ڈی جی ریسکیو 1122 سمیت دیگر متعلقہ افسران کو ہٹایا جائے گا, رپورٹ میں فائربریگیڈ اور ریسکیو 1122 کی ٹیم کے تاخیر سے پہنچنے کا اعتراف کیا گیا ہے جب کہ کمشنر کراچی کی رپورٹ میں ریسکیو ٹیم کے پاس آلات موجود نہ ہونے کا بھی اعتراف کیا گیا۔

spot_imgspot_img