سرحدوں کی نگہبانی اور شہر کی داخلی سیکیورٹی کا کنٹرول سنبھالنے والے رینجرز کے جوان سخت ٹریننگ کے دوران بھی زندہ دلی سے اپنی زندگی جیتے ہیں۔
شہر قائد میں امن و امان کا مسئلہ ہو یا کوئی خراب صورتحال رینجرز کے جوانوں کے آنے پر شہری خود کو محفوظ تصور کرتے ہیں۔
کسی بھی فورس کے اہلکاروں کیلیے ان کی ٹریننگ ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے، یہ چیز بنیادی طور پر سولجر کی خود اعتمادی میں اضافے اور ایک غیر متزلزل عزم و حوصلے کے ساتھ ان کے آگے بڑھنے میں معاون ثابت ہوتی ہے۔
ڈسپلن کے ساتھ ساتھ شرارتوں ،مسکراہٹوں ،جذبے اور جوش سے بھرپور رینجرز اہلکاروں کی ٹریننگ کتنی دلچسپ ہوتی ہے۔ اس حوالے سے نمائندہ اے آر وائی نیوز کراچی نے ایک رپورٹ تیار کی ہے۔
رینجرز کے جوانوں کی ٹریننگ سے متعلق چیف انسٹرکٹر لیفٹنٹ کرنل یاسر نے اے آر وائی نیوز کو بتایا کہ ہمارے ہاں جوانوں کی بھرتی کا طریقہ کار ہی ایسا ہے کہ ہم جن لوگو کا انتخاب کرتے ہیں ان میں اتنی طاقت اور صلاحیت ہو کہ وہ ابتدائی تربیت کی سختیوں کو جھیل سکیں۔
6ستمبر 1965 میں وطن عزیز کی حفاظت کیلیے پہلی صف میں کھڑے ہونے اور دشمن کو منہ توڑ جواب دینے کا اعزاز پاک رینجرز کے پاس ہے رینجرز کے ان جوانوں نے بھارتی حملے کو انتہائی مہارت اور کامیابی سے پسپا کیا اور 8 گھنٹے تک مقابلہ کرتے ہوئے دشمن کو پیچھے دھکیل دیا۔
ملک کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے ان تمام جوانوں کا عزم ایک ہی ہے کہ وہ پاک سرزمین پاکستان کیلیے اپنی جان بھی دینے کیلیے ہر وقت تیار ہیں۔
ٹریننگ کے دوران صرف سختی نہیں ہوتی بلکہ جوانوں کیلیے ہر طرح کی تفریح کا سامان بھی ہوتا ہے وقفے کے دوران یہ جوان ساتھ بیٹھ کر خوش گپیاں بھی کرتے ہیں اور اپنے اپنے انداز میں لطیفے سنا کر گانے گا کر ساتھیوں کو محظوظ بھی کرتے ہیں۔



