گزشتہ سے پیوستہ
جوس کے نام پر بچوں کو زہر پلانے والی کمپنی کے جنرل منیجر نے انتہائی ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے تمام الزامات کو مسترد کرنے کی ناکام کوشش کی۔
جوس فیکٹری کے جنرل منیجر محمد افضل نے پورے اعتماد سے اور حلفاً ٹیم سرعام کو بتایا کہ ہم یہاں کسی قسم کا کوئی غیر قانونی کام نہیں کررہے ہمارا پلانٹ کے پی کے میں ہے۔ لیکن تھوڑی بعد ہی خود کہا کہ ہم نے پنجاب میں اس کی کوئی اجازت نہیں لی اور نہ ہی پروڈکٹ کی انسپکشن کروائی ہے۔
جوس فیکٹری کے ایک اور عہدیدار محمد علی نے کہا کہ ہم اپنی غلطی کو تسلیم کرتے ہیں اور ہماری پروڈکٹ پی ایس کیو سی کے عین مطابق ہے، اور کمپنی فی الحال ٹرائلز بیسز پر کام کررہی ہے، ہماری پروڈکٹ علیحدہ نام سے ہے لیکن اس کی اسپیلنگ مشہور برانڈ سے ملتی جلتی ہے۔
مالکان پر10لاکھ روپے جرمانہ اور فیکٹری سیل
ڈی جی پنجاب فوڈ اتھارٹی نے ٹیم سرعام کو بتایا کہ تمام تر شواہد کی بنیاد پر فیکٹری میں موجود تمام زائد المیعاد میٹریل اور تیار شدہ پیکٹوں کو ضائع کیا جائے گا، اس کے علاوہ فیکٹری مالکان پر 10لاکھ روپے جرمانہ اور یونٹ کو سربمہر کردیا جائے گا۔
مزید پڑھیں : جوس کے نام پر بچوں کو زہر پلانے کا انکشاف، دل دہلا دینے والی رپورٹ
ان کو ایک موقع دیا جارہا ہے کہ جب تک یہ مالکان فیکٹری کی تمام تر قانونی کارروائیاں مکمل نہیں کرلیتے تب تک فیکٹری سیل رہے گی۔ انکا کہنا تھا کہ یہ غلطی نہیں مجرمانہ غفلت ہے 80 افراد کے روزگار کیلیے صوبے کے ڈیڑھ کروڑ بچوں کی زندکی کو ساؤ پر نہیں لگایا جاسکتا۔



