spot_img

ذات صلة

جمع

جوانی میں دل کا دورہ اور فالج کی بڑی وجہ کیا ہے؟

اسٹاک ہوم : آج کل اکثر دیکھنے میں آرہا ہے کہ جوانی یا درمیانی عمر کے افراد دل کے دورے یا فالج کا شکار ہورہے ہیں، اس کی بہت سی وجوہات ہوسکتی ہیں۔

جوانی میں دل کا دورہ غیر صحت بخش طرزِ زندگی جیسے سگریٹ نوشی، موٹاپا، ورزش کی کمی، اور دباؤ کی وجہ سے ہو سکتا ہے۔

اس کی علامات میں سینے میں درد، پسلیوں، جبڑے، گردن یا بازو میں درد شامل ہے جو 20 منٹ سے زیادہ رہتا ہے۔

صحت مند طرزِ زندگی اختیار کرنا اور باقاعدگی سے صحت کے ٹیسٹ کروانا جوانی میں دل کے دورے کے خطرے کو کم کر سکتا ہے۔

سوئیڈن کی لیونڈ یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے ایک تازہ تحقیق میں انکشاف کیا ہے کہ میٹھے مشروبات جیسے سوڈا اور فروٹ جوس وغیرہ نوجوانوں میں ہارٹ اٹیک اور فالج کے بڑھتے ہوئے کیسز کی ایک بڑی وجہ بن رہے ہیں۔

ماہرین کے مطابق، بیکری کی میٹھی اشیا کے مقابلے میں چینی سے بنے مشروبات دل کی شریانوں پر زیادہ منفی اثر ڈال سکتے ہیں، جس سے امراضِ قلب، ہارٹ فیلیئر اور فالج کا خطرہ نمایاں طور پر بڑھ جاتا ہے۔

یہ طویل المدتی تحقیق 70 ہزار کے قریب افراد پر مشتمل تھی، جن کی غذائی عادات اور طرزِ زندگی کا ڈیٹا 1997 سے 2009 کے درمیان جمع کیا گیا۔ بعد ازاں 2019 میں ان ہی افراد میں ہارٹ اٹیک، فالج اور دل کی دیگر بیماریوں کی شرح کا تجزیہ کیا گیا۔

یہ تحقیق معروف طبی جریدے “فرنٹیئرز اِن پبلک ہیلتھ” (Frontiers in Public Health) میں شائع کی گئی ہے۔

تحقیق کے دوران چینی کے استعمال کو تین اقسام میں تقسیم کیا گیا جن میں میٹھے مشروبات (سوڈا، فروٹ جوسز وغیرہ)، بیکری کی اشیاء (پیسٹریز، کیک وغیرہ)،اور چائے یا کافی میں شامل کی جانے والی چینی یا شہد شامل ہیں۔

نتائج نے واضح کیا کہ میٹھے مشروبات دل کے لیے سب سے زیادہ نقصان دہ ثابت ہوئے۔ محققین کے مطابق، سیال (لیکوئیڈ) چینی جسم میں تیزی سے جذب ہو جاتی ہے کیونکہ اسے ٹھوس غذا کی طرح ٹکڑوں میں توڑنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔

یہی وجہ ہے کہ خون میں شکر کی سطح فوراً بڑھ جاتی ہے، جس سے شریانوں پر دباؤ پڑتا ہے اور دل کے امراض کا امکان بڑھ جاتا ہے۔

ٹھوس میٹھی غذا، جیسے بیکری مصنوعات، میں فائبر اور پروٹین موجود ہوتے ہیں جو ہاضمے کے عمل کو سست کرتے ہیں اور شکر کے جذب ہونے کو متوازن رکھتے ہیں، اس لیے وہ اتنی خطرناک نہیں ہوتیں۔

تحقیق میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ دل کی صحت کے لیے چینی کو مکمل طور پر ترک کرنا ضروری نہیں، لیکن میٹھے مشروبات کا استعمال اعتدال میں ہونا چاہیے۔

اگرچہ ماہرین نے تسلیم کیا کہ تحقیق کے نتائج کچھ حد تک محدود ہیں، لیکن ماضی کی کئی تحقیقی رپورٹس بھی میٹھے مشروبات اور امراضِ قلب کے تعلق کی تصدیق کرچکی ہیں۔

spot_imgspot_img