اکثر ایسا ہوتا ہے کہ اچانک جسم میں سنسنی یا کرنٹ سا دوڑ جاتا ہے، دل کی دھڑکن تیز ہوجاتی ہے اور بازوؤں کے بال کھڑے ہوجاتے ہیں، اس کیفیت کو عام زبان میں رونگٹے کھڑے ہونا کہا جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ دراصل جسم کا ایک قدرتی ردِعمل ہے جو مختلف جذبات یا حالات کے باعث ظاہر ہوتا ہے۔ اسے سائنسی زبان میں ’پائلو اِریکشن‘ بھی کہتے ہیں۔
خوف اس کی بڑی وجہ ہے، اچانک خطرہ محسوس ہونے پر جسم میں ہارمونز خارج ہوتے ہیں جس سے دل کی دھڑکن تیز ہوجاتی ہے اور جسم میں سنسناہٹ محسوس ہوتی ہے۔
شدید جذبات جیسے بے حد خوشی یا گہرا دکھ بھی اس کیفیت کو جنم دے سکتے ہیں، اچانک خوشخبری ملنے یا کسی تکلیف دہ لمحے میں بھی انسان کے رونگٹے کھڑے ہوسکتے ہیں۔
اسی طرح دلچسپ کہانی یا خوفناک منظر دیکھنے، پسندیدہ گانا سننے یا اچھی کتاب پڑھنے کے دوران بھی جذباتی کیفیت بڑھنے سے جسم یہی ردِعمل دکھاتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ نتائج کا انتظار، محبت کا اظہار یا کسی بڑے لمحے کا سامنا بھی انسان کو ایسی کیفیت میں مبتلا کرسکتا ہے۔
مختصراً، رونگٹے کھڑے ہونا دراصل انسانی جسم اور دماغ کے جذباتی ردِعمل کی ایک فطری علامت ہے جو خوف، خوشی، حیرت یا شدید جذبات کے لمحوں میں ظاہر ہوتی ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ کیفیت اس وقت ہوتی ہے جب اچانک سردی لگے تو ٹھنڈک محسوس ہونے پر جلد کے بال کھڑے ہوجاتے ہیں۔ دل میں خوف پیدا ہو تو جسم میں ہلکی سی کپکپی اور رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔
کبھی خوشی، کبھی غم، یا کوئی ایسا لمحہ جو دل کو گہرائی سے چھو لے۔ جیسے قرآن پاک کی تلاوت سننے پر۔اس کے علاوہ بیماری یا بخار میں ٹھنڈ لگنے پر بھی ایسا ہوتا ہے۔ دراصل یہ جسم کا ایک قدرتی ردِعمل ہے جسے سائنسی زبان میں ’پائلو اِریکشن‘ کہتے ہیں۔



