کراچی: بچوں سے زیادتی کا کیس میں 13 سالہ بچے نے بھی ملزم شبیر تنولی کو شناخت کرلیا اور عدالت میں اپنا بیان قلمبند کرادیا۔
تفصیلات کے مطابق کراچی میں مقامی عدالت میں بچوں سے زیادتی کے مقدمے کی سماعت ہوئی، جہاں 13 سالہ متاثرہ بچے نے بھی ملزم شبیر تنولی کو شناخت کرلیا۔
متاثرہ بچے کا بیان دفعہ 164 کے تحت قلمبند کیا گیا، بچے نے ہچکچاتے ہوئے مجسٹریٹ کے سامنے اپنا بیان ریکارڈ کرایا۔
عدالت نے استفسار کیا کہ “بیٹا، آپ پر کوئی دباؤ تو نہیں؟ اپنی مرضی سے بیان دے رہے ہیں؟” جس پر بچے نے جواب دیا: “جی، میں اپنی مرضی سے بیان قلمبند کروا رہا ہوں۔”
عدالت نے زیادتی کے مقدمے میں متاثرہ بچے کا بیان قلمبند کرلیا۔ سماعت کے دوران ایک اور متاثرہ بچی کو بھی شناخت پریڈ اور اقبالی بیان کے لیے پیش کیا گیا، تاہم خاتون مجسٹریٹ موجود نہ ہونے کے باعث اس کا بیان ریکارڈ نہ ہوسکا۔
خیال رہے کراچی میں جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی میں ریمانڈ مکمل ہونے پر پولیس کی جانب سے ملزم کو پیش کیا گیا، جہاں اس کا دفعہ 164 کے تحت اعترافی بیان قلمبند کرایا۔
عدالت میں بیان ریکارڈ کراتے وقت مجسٹریٹ نے استفسار کیا کہ “آپ کو علم ہے کہ آپ کہاں موجود ہیں؟” جس پر ملزم نے جواب دیا: “جی، میں اس وقت عدالت میں ہوں اور بیان قلمبند کرانے آیا ہوں۔” اس کے بعد ملزم نے متعدد بچیوں سے زیادتی کے گھناؤنے فعل کا اعتراف کرلیا۔
پولیس نے بتایا کہ ملزم شبیر تنولی 2016 سے بچیوں کو زیادتی کا نشانہ بناتا رہا اور ان کی ویڈیوز بھی بناتا تھا۔ اہلِ علاقہ کی شکایت پر چند روز قبل قیوم آباد سے گرفتار کیا گیا۔ متاثرہ بچیوں نے بھی شناخت پریڈ کے دوران ملزم کی نشاندہی کی جبکہ ان کے بیانات پہلے ہی قلمبند کیے جاچکے ہیں۔



