واشنگٹن (12 مارچ 2026): ایران کے خلاف اسرائیل اور امریکا کی مشترکہ جنگ میں ٹرمپ انتطامیہ کو شروع کے 6 دنوں میں بھاری معاشی نقصان اٹھانا پڑ گیا۔
خبر رساں ایجنسی روئٹرز نے اپنی حالیہ رپورٹ میں ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ٹرمپ انتظامیہ کے حکام نے کانگریس کو دی گئی خفیہ بریفنگ کے دوران اعتراف کیا کہ ایران کے خلاف جنگ کے پہلے 6 دنوں میں امریکا کو کم از کم 11.3 ارب ڈالر کا خرچ اٹھانا پڑا۔
یہ تخمینہ منگل کے روز سینیٹرز کو دی گئی بریفنگ میں جنگ کے کُل اخراجات پر محیط نہیں تھا بلکہ یہ معلومات ان قانون سازوں کو فراہم کی گئیں جو تنازع کے بارے میں مزید تفصیلات کا مطالبہ کر رہے تھے۔
کانگریس کے متعدد معاونین کے مطابق انہیں توقع ہے کہ وائٹ ہاؤس جلد ہی جنگ کیلیے اضافی فنڈنگ کی درخواست کانگریس کو جمع کروائے گا۔ کچھ حکام نے کہا کہ یہ درخواست 50 ارب ڈالر کی ہو سکتی ہے جبکہ دیگر کے خیال میں یہ تخمینہ بھی کم معلوم ہوتا ہے۔
ایران، اسرائیل اور امریکا جنگ سے متعلق تمام خبریں
ٹرمپ انتظامیہ نے تاحال اس تنازع کے اخراجات کا کوئی عوامی تخمینہ یا اس کے متوقع دورانیے کے بارے میں کوئی واضح تصور پیش نہیں کیا۔ بدھ کے روز کینٹکی کے دورے کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ہم جنگ جیت گئے ہیں لیکن امریکا کام مکمل کرنے کیلیے اس لڑائی میں موجود رہے گا۔
واضح رہے کہ 11.3 ارب ڈالر کے ان اعداد و شمار کی سب سے پہلے بدھ کو نیویارک ٹائمز نے اطلاع دی تھی۔
ایران کے خلاف مہم کا آغاز 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ فضائی حملوں سے ہوا تھا جس میں اب تک تقریباً 2000 افراد جان سے گئے۔
ٹرمپ انتظامیہ کے حکام نے قانون سازوں کو یہ بھی بتایا کہ حملوں کے پہلے 2 دنوں میں 5.6 ارب ڈالر کا اسلحہ و بارود استعمال کیا گیا۔
کانگریس کے ارکان نے اس تشویش کا اظہار کیا کہ یہ تنازع امریکی فوجی ذخائر کو ایک ایسے وقت میں ختم کر دے گا جب دفاعی صنعت پہلے ہی طلب کو پورا کرنے کیلیے جدوجہد کر رہی ہے۔
ڈیموکریٹک قانون سازوں نے ٹرمپ انتظامیہ کے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ریپبلکن صدر کے جنگی منصوبوں بشمول جنگ کے ممکنہ دورانیے اور لڑائی رکنے کے بعد ایران کے حوالے سے ان کے ارادوں کے بارے میں حلفیہ عوامی گواہی دیں۔



