تہران : ایران نے اپنے نئے سپریم لیڈر کا اعلان کردیا، سید مجتبیٰ خامنہ ای ایران کے نئے سپریم لیڈر منتخب ہوگئے ہیں۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق مجلس خبرگان نے نئے سپریم لیڈر کا انتخاب کیا، مجلس خبرگان نے بھاری اکثریت سے مجتبیٰ خامنہ ای کو اپنا رہبر منتخب کرلیا ہے۔
سید مجتبیٰ خامنہ ای ایران کے تیسرے رہبر کے طور پر منتخب ہوئے ہیں، نئےسپریم لیڈرسید مجتبیٰ خامنہ ای شہید آیت اللہ خامنہ ای کے صاحبزادے ہیں۔
مجلس خبرگان میں آیت اللہ خامنہ ای اور دیگر شہدا سمیت مناب اسکول کے شہید طلبا،مسلح افواج کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔
مجلس خبرگان عہدیداران کا کہنا ہے کہ ملک کو قیادت کے خلا سے بچانے کے لیے فوری اقدامات کیے گئے، مجلس نے عوام سے نئے رہبر اعلیٰ کی بیعت اور وحدت برقرار رکھنے کی اپیل کی۔
ایرانی سرکاری میڈیا کی رپورٹ کے مطابق مجلس خبرگان کے شرکا نے قومی اتحاد کو فروغ دینے پر زور دیا، ان کا کہنا تھا کہ دشمن کے مجلس کے دفاتر پر بمباری کے باوجود رہبراعلیٰ کا انتخاب کیا۔
انہوں نے کہا کہ دشمن کے حملوں کے باوجود سپریم لیڈر کے انتخابی عمل میں کوئی تاخیر نہیں ہوئی،
نئے رہبر کے انتخاب کیلئے تمام قانونی اور شرعی تدابیر اختیار کی گئیں۔
اس حوالے سے سیکیورٹی ایکسپرٹ ڈاکٹر قمر چیمہ نے اے آر وائی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران میں تقریباً 40سال بعد نئے سپریم لیڈرکا انتخاب کیا گیا ہے، آیت اللہ خامنہ ای کی پوری فیملی امریکی، اسرائیلی حملے میں شہید ہوئی۔
پاسداران انقلاب کے کمانڈرز بھی سید مجتبیٰ خامنہ ای کے حامی ہیں،نئے سپریم لیڈرسید مجتبیٰ خامنہ ای سے بھی ایرانی عوام عقیدت رکھیں گے۔
ڈاکٹر قمر چیمہ نے کہا کہ اس انتخاب سے پہلے ایک تاثر تھا کہ ایران میں نئی قیادت نہیں مل رہی، سید مجتبیٰ خامنہ ای اپنے والد کے مشن کو جاری رکھیں گے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکا اوراسرائیل سید مجتبیٰ خامنہ ای کے انتخاب کو قبول نہیں کریں گے، ایران میں کون قیادت کرے گا یہ امریکا اور اسرائیل کا کام نہیں ہے۔



