امیر تیمور لنگ 1336-1405 تاریخ کے نمایاں فاتحین میں سے ایک تھا جس نے ایران عراق شام اور عثمانی سلطنت تک بے شمار فتوحات کیں 1398 میں اس نے ہندوستان پر حملہ اسے بھی فتح کیا۔
وسطی ایشیا کا نامور امیر فاتح تیمور 1336 میں سمرقند کے قریب علاقے کیش میں پیدا ہوا، وہ ترک النسل برلاس قبیلے سے تعلق رکھتا تھا جو منگول حکمران چنگیز خان کے بیٹے چغتائی خان کی مہمات کے بعد آباد ہوا تھا۔
تیمور نے سیاسی کشمکش کے دور میں طاقت حاصل کی اور 1370 میں سمرقند میں خود کو حکمران قرار دے کر منگول سلطنت کی بحالی کا دعویٰ کیا۔
لڑکپن میں اس کی ٹانگ میں لگنے والے زخم کا اثر مرتے دم تک اس کے ساتھ رہا جس کا اسے بہت رنج تھا۔ ہوا کچھ یوں کہ لڑکپن میں وہ کچھ دوستوں کے ساتھ شرارتیں کرتے ہوئے بھیڑیں چوری کررہا تھا کہ مالک نے دیکھ لیا اور چوروں کو بھاگتا دیکھ کر اس نے ان پر تیر چلا دیا ایک تیر تیمور کے دائیں بازو پر لگا اور دوسرا ٹانگ پر اور تیر کا یہ زخم اس کی ٹانگ میں لنگ کا باعث بنا۔
اس کے والدین معمولی درجے کے زمیندار تھے، امیر تیمور نے اپنی زندگی میں 42 ملک فتح کیے اس کی ایک خاص بات یہ تھی کہ وہ ایک وقت میں اپنے دونوں ہاتھوں سے جنگ میں دشمن کا قتل عام کرتا تھا۔
وہ ایک ہاتھ میں تلوار اور دوسرے ہاتھ میں کلہاڑا اٹھاتا تھا، تخت نشین ہونے کے بعد تیمور نے ان تمام علاقوں اور ملکوں پر قبضہ کرنا اپنا حق اور مقصد قرار دیا جن پر چنگیز خان کی اولاد حکومت کرتی تھی۔
تیمور نے خوارزم، خراسان اور فارس کے بڑے حصے فتح کیے۔ 1380 کی دہائی میں اس کی فوجیں ماسکو تک جا پہنچیں اور سال 1398 میں اس نے دہلی پر حملہ کر کے شہر کو شدید تباہی سے دو چار کیا۔
ہندوستان سے واپسی پر بے شمار مالِ غنیمت اور ہنرمندوں کو سمرقند منتقل کیا گیا، جہاں عظیم الشان تعمیرات کی بنیاد رکھی گئی۔
تیمور نے اپنی جسمانی کمزوری کو اپنی طاقت بنا لیا تھا اس کے اندر کی آگ نے اسے مزید جنگجو بنا دیا تھا اور یہ آگ اس بدلے اور انتقام کی تھی جو زخم اسے لڑکپن میں لگا، اور پھر وہ دن بھی آیا جب وہ فاتح عالم بنا تو اس شخص کو بھی ڈھونڈ نکالا جس نے اسے تیر مارا تھا، تیمور نے اس شخص کو تیروں سے چھلنی کرکے جان سے مارنے کا حکم دیا۔



