پاکستان میں الیکٹرک اور ہائبرڈ گاڑیوں کے رجحان میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے، تاہم کامیابی کے لیے انفرااسٹرکچر، فنانسنگ اور مستقل حکومتی پالیسی انتہائی ضروری ہے۔
پیٹرول کی قیمتوں میں روز بروز اضافے کی وجہ سے پاکستانی عوام متبادل ذرائع کی طرف راغب ہو رہی ہے، جیسا کہ بجلی کی بڑھتی قیمتوں کے پیش نظر لوگوں نے سولر سسٹم کی طرف رجوع کیا۔
اسی طرح جب پیٹرول کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں تو لوگوں کے گاڑیاں چلانے اور گاڑیاں خریدنے کے رجحان میں تبدیلی آنا شروع ہوگئی ہے۔
اس حوالے سے اے آر وائی نیوز کے پروگرام سوال یہ ہے میں ’بی وائی ڈی‘ کے سیلز اینڈ اسٹریٹیجی کے نائب صدر دانش خالق نے الیکٹرک گاڑیوں کی جانب عوامی دلچسپی میں نمایاں اضافے پر خصوصی گفتگو کی۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت فیول پرائسز کی صورتحال کے بعد الیکٹرک اور نیو انرجی وہیکلز کی طرف عام لوگوں کی دلچسپی بہت بڑھ گئی ہے، ہمارے شو رومز پر انکوائریز دو سے تین گنا بڑھ چکی ہیں۔”
انہوں نے کہا کہ صارفین اب زیادہ باخبر ہیں اور وہ یہ حساب بھی لگا رہے ہیں کہ فوسل فیول گاڑی سے الیکٹرک گاڑی میں تبدیلی پر کتنا فائدہ ہوگا۔
ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ایک گاڑی جو تقریباً 7 ملین روپے کی ہے وہ ایس یو وی کیٹگری میں آتی ہے اور کئی صورتوں میں روایتی گاڑیوں کے برابر یا بعض اوقات سستی بھی ہے۔
انہوں نے کہا کہ الیکٹرک گاڑیوں کے لیے چارجنگ انفراسٹرکچر انتہائی ضروری ہے کیونکہ رینج اینزائٹی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ ہم پاکستان بھر میں چارجنگ نیٹ ورک قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ کراچی سے پشاور تک ہر 200 کلومیٹر پر چارجر موجود ہو۔
انہوں نے مزید کہا کہ کمپنی کراچی، لاہور اور اسلام آباد میں سروس اور اسٹور نیٹ ورک بھی بڑھا رہی ہے تاکہ صارفین کا اعتماد قائم ہوسکے۔
دانش خالق نے بتایا کہ الیکٹرک گاڑیوں میں سب سے اہم جزو بیٹری ہے، بی وائی ڈی چونکہ بنیادی طور پر بیٹری بنانے والی کمپنی بھی ہے، اس لیے اس کی گاڑیوں میں لاگت نسبتاً کم اور کارکردگی بہتر ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ “الیکٹرک گاڑیاں تقریباً 1.2 ملین کلومیٹر تک چل سکتی ہیں اور جب بیٹری کی کارکردگی 80 فیصد تک آتی ہے۔”
حکومتی پالیسی سے متعلق سوال پر ان کا کہنا تھا کہ الیکٹرک گاڑیوں کی کامیابی اور ترقی کے لیے حکومت کی طویل المدتی اور مستقل پالیسی انتہائی ضروری ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومتی پالیسی میں تسلسل ہونا چاہیے، ٹیکس اور ڈیوٹیز متوازن ہونی چاہئیں، مقامی اسمبلنگ اور سرمایہ کاری کو فروغ دیا جائے، اس کے ساتھ فنانسنگ کے آسان اور سستے مواقع فراہم کیے جائیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ جیسے پاکستان میں سولر انرجی کی ترقی آسان فنانسنگ کی وجہ سے ممکن ہوئی، اسی طرح الیکٹرک گاڑیوں کے لیے بھی “گرین فنانسنگ” ضروری ہے۔
انہوں نے یہ بھی تجویز دی کہ استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد کو بھی بہتر طریقے سے ریگولیٹ کیا جائے تاکہ پرانی اور کم مؤثر گاڑیاں مارکیٹ پر حاوی نہ ہوں۔



