مہندی لگانے کا شوق خواتین میں بچپن سے ہی ہوتا ہے، لیکن بازاروں میں دستیاب مہندیوں میں دیگر اجزا کے ساتھ ایک مخصوص قسم کا کیمیکل بھی ملایا جاتا ہے جو جلد کیلیے بے حد مضر ہے۔
مہندی کی روایت ہمارے معاشرے میں کئی صدیوں سے قائم ہے، یہ دراصل ایک پودا ہے جس کے پتوں سے حاصل کردہ پاؤڈر کو پانی میں گھول کر خواتین ہاتھوں پر استعمال کرتی ہیں۔
قدرتی مہندی جلد پر خوبصورت سرخ یا نارنجی مائل رنگ چھوڑتی ہے، جو تقریبا دو ہفتے تک برقرار رہتا ہے اور اس کی خوشبو بھی دیرپا ہوتی ہے۔
اس حوالے سے اے آر وائی نیوز کے پروگرام شام رمضان میں ماہر امراضِ جلد ڈاکٹر عائشہ نے بتایا کہ حالیہ برسوں میں ایسے کیسز سامنے آرہے ہیں جن میں کیمیکل مہندی کے استعمال سے جلد پر شدید الرجی اور جلنے جیسے اثرات ظاہر ہوتے ہیں۔ اس کیفیت کو طبی اصطلاح میں کانٹیکٹ ڈرماٹائٹس کہا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بعض مہندیوں میں ایسے کیمیکل شامل ہوتے ہیں جو جلد کی قدرتی ساخت کے مطابق نہیں ہوتے۔ جب یہ مادے جلد کے ساتھ رابطے میں آتے ہیں تو خارش، جلن اور سرخی جیسی علامات پیدا ہوسکتی ہیں، جو بعض صورتوں میں شدید انفیکشن اور چھالوں تک پہنچ جاتی ہیں۔

ڈاکٹر عائشہ کا کہنا تھا کہ اگر مہندی لگانے کے فوراً بعد جلن یا درد محسوس ہو تو اسے فوراً دھو دینا چاہیے، اکثر لوگ اس احساس کو نظر انداز کرکے مہندی کو زیادہ دیر تک لگائے رکھتے ہیں جس سے جلد کی اندرونی تہیں متاثر ہوجاتی ہیں۔
ڈاکٹر عائشہ کے مطابق اگرایسی مہندی کی وجہ سے جلد متاثر ہوجائے تو اس کا بروقت علاج بہت ضروری ہے بصورت دیگر اس کے نشانات ختم ہونے میں کئی ماہ یا حتیٰ کہ ایک سال بھی لگ سکتا ہے۔
احتیاطی تدابیر سے متعلق ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ مہندی لگانے سے پہلے اس کا پیچ ٹیسٹ ضرور کیا جائے یعنی مہندی کو ہاتھ کے کسی چھوٹے حصے پر لگا کر کم از کم 24 گھنٹے انتظار کیا جائے۔



