کراچی : شہر قائد کے مصروف کاروباری علاقے میں صدر میں واقع گل پلازہ میں آتشزدگی کا المناک واقعہ لوگوں کے ذہنوں میں کئی دہائیوں تک رہے گا، یہ واقعہ عمارتوں میں حفاظتی اقدامات کی عدم موجودگی اور کوتاہیوں کا عکاس ہے۔
گل پلازہ قیامت خیز مناظر کا گواہ بن گیا، جہاں اچانک بھڑک اٹھنے والی آگ نے چند ہی منٹوں میں پوری عمارت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ ہر طرف چیخ و پکار، دھواں اور اسی افراتفری میں 75 سے زائد جیتے جاگتے شہریوں کی زندگیاں ہمیشہ کے لیے اندھیرے میں ڈوب گئیں۔
عینی شاہدین کے مطابق آگ اتنی تیزی سے پھیلی کہ دکانداروں کو سنبھلنے کا موقع تک نہ ملا، ایک دکاندار نے زاویہ کو بتایا کہ ہم نے بس تالے لگائے اور جان بچا کر بھاگے، مگر اس بھگدڑ میں کئی افراد اپنے پیاروں سے بچھڑگئے۔
امی !! مجھے گھبراہٹ ہو رہی ہے باہر نکالو
ایک عینی شاہد نے بتایا کہ متاثرہ افراد کی درد بھری آوازیں آج بھی میرے کانوں میں گونج رہی ہے کسی نے کہا کہ میرا بچہ لاپتہ ہے، میرے دو بچے نہیں مل رہے، وہ بھائی کو لینے گئے تھے، پھر واپس نہیں آئے۔ ایک ماں اپنے بیٹے کی آخری کال یاد کرکے بری طرح نڈھال تھی، جس میں اس بچے نے کہا تھا کہ امی!! مجھے گھبراہٹ ہو رہی ہے، مجھے یہاں سے نکال لو، اور پھر اچانک فون بند ہوگیا۔
ماہرین کے مطابق ابتدائی چند منٹوں میں آگ بظاہر معمولی لگتی ہے مگر جیسے ہی حرارت دیواروں اور چھت تک پہنچتی ہے، اردگرد موجود آتش گیر مواد سے خطرناک گیسیں خارج ہوتی ہیں، جو لمحوں میں شعلوں کو بے قابو کر دیتی ہیں۔ یہی کچھ گل پلازہ میں بھی ہوا، جہاں 5 سے 7 منٹ کے اندر گراؤنڈ فلور کا بڑا حصہ جل کر خاک ہو گیا۔
جب امدادی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچیں تو عمارت کے اندر موجود افراد دھوئیں اور آگ کے درمیان پھنس چکے تھے۔ کھڑکیوں سے مدد کے لیے اشارے کیے جا رہے تھے، مگر شدید آگ اور دھوئیں نے تمام راستے بند کر دیے تھے۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق کئی افراد آخری لمحات تک زندہ تھے، مگر انہیں نکالنا ممکن نہ ہوسکا۔ تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ عمارت میں بنیادی فائر سیفٹی انتظامات نہ ہونے کے برابر تھے
گل پلازہ میں بد قسمتی سے نہ اسموک ڈیٹیکٹر تھا نہ ایمرجنسی ایگزٹ کا مؤثر نظام اور نہ ہی فائر فائٹنگ کا مناسب سامان موجود تھا۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ پلازہ کے دکانداروں سے باقاعدہ مینٹیننس کے نام پر ماہانہ لاکھوں روپے وصول کیے جا رہے تھے۔
کراچی میں آگ کے بڑھتے واقعات
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق کراچی میٹرو پولیٹن کارپوریشن کے ریکارڈ میں گزشتہ پانچ سال میں شہر میں آگ لگنے کے 4670 واقعات رپورٹ ہوئے، جن میں 1515کمرشل عمارتیں، 1952رہائشی عمارتیں، 1203فیکٹریاں شامل ہیں۔
ماہرین اور شہری حلقوں نے اس سانحے کو محض ایک حادثہ نہیں بلکہ نظام کی بدترین ناکامی قرار دیا ہے، ان کے مطابق غیرقانونی تعمیرات، گنجان راستے، رشوت اور ناقص نگرانی اور حکومتی غفلت ان سب نے مل کر اس خوفناک المیے کو جنم دیا۔
دوسری جانب کراچی کے میئر مرتضی وہاب اور دیگر حکام کی تاخیر سے جائے وقوعہ پر آمد پر بھی شدید تنقید کی جا رہی ہے جبکہ شہریوں کا کہنا ہے کہ ہر سانحے کے بعد صرف بیانات آتے ہیں عملی اقدامات کہیں نظر نہیں آتے۔
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ سانحہ آخری سانحہ ہے ؟ گل پلازہ کے کئی متاثرہ خاندان اب بھی اپنے پیاروں کی تلاش میں سرگرداں ہیں اور شہر ایک بار پھر اسی سوال کے ساتھ کھڑا ہے کہ یہ سب آخر کب تک ہوتا رہے گا؟



