اسلام آباد : سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ایک مبینہ آڈیو کال لیک نے کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) کی قیادت پر سوالیہ نشان اٹھا دیے۔
وزیرِ مملکت طلال چوہدری کی جانب سے شیئر کی جانے والی مبینہ لیک آڈیو میں جے اے اے سی رہنماؤں شوکت نواز میر اور خواجہ مہران کی گفتگو سنائی جارہی ہے، جس نے آزاد کشمیر میں بدامنی پھیلانے کی منصوبہ بندی کے الزامات کو جنم دیا ہے۔
اے آر وائی نیوز کی رپورٹ کے مطابق مرکزی رہنما شوکت نواز میر اور خواجہ مہران کی آڈیو کال میں ہونے والی گفتگو میں راولا کوٹ میں دہشت گرد حملے اور لاشیں گرانے کی پیشگی منصوبہ بندی کی جا رہی تھی۔
مبینہ لیک کال میں کہا گیا کہ جب تک راولا کوٹ میں حملے اور لڑائی نہیں ہوتی مظفرآباد اور میر پور میں ہم کچھ نہیں کر پائیں گے۔
شوکت نواز میر کا کہنا تھا کہ منصوبے پرعمل درآمد کیلئے راولا کوٹ میں اہلکاروں کی تعداد کا جائزہ لے کرفیصلہ کیا جائے۔
گفتگو میں خواجہ مہران کو یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ اہلکار راولا کوٹ میں امن و امان برقرار رکھنے کیلئے موجود ہیں جس پر شوکت نواز نے کہا کہ میں پھر دہرا رہا ہوں کہ جب تک راولا کوٹ میں لڑائی نہیں ہوگی ہم کچھ نہیں کر پائیں گے۔
کالعدم ایکشن کمیٹی کے حوالے سے متعدد شواہد پہلے سے بھی موجود ہیں، تاہم یہ مبینہ فون کال کا معاملہ انتہائی سنگین نوعیت کا ہے۔ اس کی مکمل، جامع اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کی ضرورت ہے، جو متعلقہ اداروں کی جانب سے ہنگامی بنیادوں پر فوری طور پر عمل میں لائی جائیں گی۔ https://t.co/u9R2ls5i17
— Senator Tallal Chaudry (@TallalPMLN) June 8, 2026
اس حوالے سے وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے سوشل میڈیا پر آڈیو کلپ شیئر کرتے ہوئے اسے قومی سلامتی سے متعلق ایک سنگین معاملہ قرار دیا اور کہا کہ العدم ایکشن کمیٹی کے حوالے سے متعدد شواہد پہلے سے بھی موجود ہیں، تاہم یہ مبینہ فون کال کا معاملہ انتہائی سنگین نوعیت کا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس معاملے کی مکمل، جامع اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کی ضرورت ہے جو متعلقہ اداروں کی جانب سے ہنگامی بنیادوں پر فوری طور پر عمل میں لائی جائیں گی۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ لیک کال سے یہ بات واضح ہوگئی کہ کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا مقصد پرتشدد حملے کرکے اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنا تھا۔



