پشاور زلمی نے حیدرآبادکنگزمین کو شکست دے کر پی ایس ایل 11 کا ٹائٹل اپنے نام کر لیا۔ پہلی بار پی ایس ایل کھیلنے والی حیدرآباد کی ٹیم نے فائنل میں پہنچ کر ایونٹ کو یادگار بنایا لیکن وہ ٹرافی پر قبضہ جمانے میں ناکام رہی۔
قذافی اسٹیڈیم میں کھیلے گئے فیصلہ کن معرکے میں بابراعظم کی ٹیم نے کھیل کے ہر شعبہ میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دوسری بار چیمپئن بننے کا اعزاز حاصل کیا۔ مجموعی طور پر زلمی کا یہ پانچواں فائنل تھا۔ اس نے 5 مارچ 2017 کو ڈیرن سیمی کی قیادت میں اسی میدان میں فائنل جیتا تھا۔
حیدرآباد کے 130 رنز کے چھوٹے ہدف کے تعاقب میں زلمی کو ابتدا میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تاہم ہارڈی اور عبدالصمد نے ذمہ دارانہ بیٹنگ کرتے ہوئے 85 رنز کی قیمتی شراکت داری قائم کر کے ٹیم کو فتح دلوائی۔
زلمی نے مطلوبہ ہدف پانچ وکٹوں کے نقصان پر پورا کر لیا۔ ایرون ہارڈی 56 رنز کے ساتھ ناقابل شکست رہے جب کہ عبدالصمد 48 رنز کے ساتھ نمایاں رہے۔ کپتان بابراعظم بغیر کوئی رن بنائے آؤٹ ہوئے جب کہ محمد حارث 6، کوشال مینڈس 9 رنز اور بریسویل 4 رنز بنا سکے۔ فرحان یوسف 4 رنز کے ساتھ ناٹ آؤٹ رہے۔
حیدرآباد کی جانب سے محمدعلی نے3، حنین شاہ اور عاکف جاوید نے 1،1 وکٹ حاصل کی۔
فیصلہ کن معرکے میں زلمی کے کپتان نے ٹاس جیت کر حیدرآباد کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی تو پشاور کے بولرز نے کپتان کے فیصلے کو درست ثابت کر دکھایا۔
اگرچہ حیدرآباد نے اننگز کا آغاز جارحانہ انداز میں کیا لیکن وہ اس تسلسل کو برقرار نہ رکھ سکی اور پوری ٹیم 18 ویں اوور میں پویلین لوٹ گئی۔
کنگزمین کی ٹیم نے پاور پلے کا عمدہ استعمال کرتے ہوئے دو وکٹوں کے نقصان پر 69 رنز کا اچھا آغاز فراہم کیا تاہم 4 رنز کے اضافے سے اس کی 4 وکٹیں گرِ گئیں۔
پاور پلے ختم ہوتے ہی بیٹنگ لائن لڑ کھڑا گئی اور یکے بعد دیگر وکٹیں گرنا شروع ہو گئیں۔ کپتان لیبوشن 20، معاذ صداقت 11، عثمان خان 8، عرفان خان ایک اور گلین میکسویل بغیر کوئی رن بنائے آؤٹ ہوئے جب کہ کوشال پریرا ایک ہی اسکور کا اضافہ کر سکے۔
ایک جانب وکٹیں گرتی رہیں تو دوسری اینڈ پر صائم ایوٹ ڈٹے رہے، انہوں نے ٹیم کل مشکلات سے نکالنے کی بھرپور کوشش کی تاہم 54 رنز پر ان کی مزاحمت دم توڑ گئی۔
زلمی کے ایرون ہارڈی سب سے کامیاب بولر رہے جنہوں نے 4 وکٹیں حاصل کیں، ناہید رانا نے 2 جب کہ محمد باسط اور سفیان مقیم نے ایک، ایک وکٹ حاصل کی۔
ٹاس کے موقع پر بابراعظم نے کہا کہ آج کی پچ پر تھوڑی گراس لگ رہی ہے بطور ٹیم جلدازجلد کنڈیشن کو سمجھنا ہو گا، خرم شہزاد کی جگہ ناہیدرانا کو ٹیم میں شامل کیاہے، تماشائیوں کی موجودگی میں بہت اچھا محسوس ہوتا ہے۔
حیدرآباد کے کپتان مارنس لبوشین نے کہا کہ ہم نے اسلام آباد کیخلاف بہت سنسنی خیز طریقے سے میچ جیتا اب فائنل میچ کےلیے بھی پوری طرح تیار ہیں، پچ دیکھنے میں بہت اچھی لگ رہی ہے۔
پشاور زلمی دوسری بار ٹائٹل اپنے نام کرنے کے لیے پرُعزم ہے تو پہلی بار ایونٹ کھیلنے والی حیدرآباد کنگزمین چیمپئن بننے کو بے تاب ہے۔
میچ سے میچ سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پشاور زلمی کے کپتان بابر اعظم نے کہا کہ ٹرافی جیتنا ہر کپتان کا خواب ہوتا ہے اور وہ فائنل میں دباؤ لیے بغیر اچھا نتیجہ دینے کی کوشش کریں گے۔ انہوں نے ٹیم کے بہترین مبی نیشن اور مومنٹم پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے ٹرافی اپنے نام کرنے کا عزم ظاہر کیا۔
دوسری جانب حیدرآباد کنگزمین کے کپتان لبوشین نے کہا کہ اعتماد اور یقین کے ساتھ کچھ بھی حاصل کرنا ممکن ہے۔
انہوں نے اب تک کے سفر کو ٹیم کے لیے انتہائی خاص قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی پوری کوشش ہوگی کہ ٹورنامنٹ کا اختتام فتح کے ساتھ یادگار بنائیں۔ دونوں ٹیموں کی نظریں اب پی ایس ایل 11 کی ٹرافی پر جمی ہوئی ہیں۔



