spot_img

ذات صلة

جمع

مارکیٹیں کتنے بجے بند ہوں گی؟

حکومت نے ایندھن کی بچت پالیسی کے تحت مزید...

بنوں میں بارود سے بھری گاڑی پولیس اسٹیشن سے ٹکرا گئی

بنوں میں بارود سے بھری گاڑی ڈومیل پولیس اسٹیشن...

بیرسٹر گوہر کے نام پر ہیکرز نے 5 لاکھ روپے لوٹ لیے

چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کے نام پر...

’موٹر سائیکل سواروں کے لیے 100 روپے فی لیٹر سبسڈی دی جائے گی‘

وفاقی وزیر برائے خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا ہے...

مالی سال 25-2024 میں سرکاری اداروں کا مجموعی خسارہ 122.9 ارب روپے

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت کابینہ کمیٹی برائے سرکاری ادارے کے اجلاس میں سالانہ کارکردگی رپورٹ کا جائزہ لیا گیا۔

اعلامیہ کے مطابق وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت کابینہ کمیٹی برائے سرکاری اداروں کا اجلاس میں سالانہ کارکردگی رپورٹ کا جائزہ لیا گیا۔

کابینہ کمیٹی اجلاس میں بریفنگ میں بتایا گیا کہ مالی سال 25-2024 میں سرکاری اداروں کا مجموعی خسارہ 122.9 ارب روپے ہوا، منافع بخش اداروں کے منافع میں 13 فیصد کمی، 709 ارب روپے رہ گئے، خسارے میں چلنے والے اداروں کے نقصانات میں 2 فیصد کمی ہوئی۔ تیل کے عالمی نرخ کم ہونے سے ایس او ایز کی آمدن متاثر ہوئی۔

بریفنگ خسارہ زیادہ تر ٹرانسپورٹ اور بجلی تقسیم کار اداروں میں ہوا، بریفنگ میں بتایا گیا کہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی اور بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں بڑے خسارے کا سبب ہیں، حکومت کی جانب سے ایس او ایز کو مالی معاونت 2078 ارب روپے تک پہنچ گئی،سرکاری اداروں سے حکومت کو وصولیاں 2119 ارب روپے ہو گئیں،

سرکاری اداروں کا مجموعی قرضہ 9570 ارب روپے تک ہوگیا ہے،ایس او ایز کے غیر فنڈڈ پنشن واجبات تقریباً 2 ہزار ارب روپے ہوگئے،فروری 2026 تک آئی ایف آر ایس کے تحت رپورٹنگ مکمل کرنے کی ہدایت۔ اعلامیہ کے مطابق اجلاس میں آڈٹ مکمل نہ کرنے والے اداروں کے خلاف سختی کا عندیہ، حکومت کا ایس او ایز میں شفافیت اور اصلاحات پر عملدرآمد کا عزم،مختلف بجلی کمپنیوں میں آزاد ڈائریکٹرز کی تقرری کی منظوری دی گئی۔

spot_imgspot_img