برسات کا موسم جہاں خوشگوار تبدیلیاں لاتا ہے وہیں مختلف بیماریوں کو بھی جنم دیتا ہے، خصوصاً جلدی امراض اس دوران تیزی سے پھیلتے ہیں، ان ہی میں ایک مرض لیشمینیا بھی ہے۔
ماہرین کے مطابق پھنسیاں، پھوڑے، گرمی دانے اور دیگر جلدی مسائل بظاہر معمولی سے نظر آتے ہیں، مگر بروقت علاج نہ کیا جائے تو یہ سنگین شکل اختیار کرسکتے ہیں۔
ماہر طب ڈاکٹر محمد عمر فاروق گوندل کے مطابق بیشتر جلدی امراض کی علامات ایک جیسی ہوتی ہیں، لیکن معمولی فرق کے باوجود انہیں نظر انداز کرنا خطرناک ہو سکتا ہے۔ انہی امراض میں ایک اہم بیماری Leishmaniasis ہے، جسے عام زبان میں لاہوری پھوڑا، دہلی کا پھوڑا، سال دانہ یا دھدر بھی کہا جاتا ہے۔
لاہوری پھوڑا کیا ہے؟
یہ مرض عموماً جسم کے کھلے حصوں پر چھوٹے دانوں کی صورت میں شروع ہوتا ہے، جو وقت کے ساتھ بڑھ کر بڑے پھوڑے یا گومڑ کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ چند ہفتوں میں یہ زخم گہرے ہو سکتے ہیں اور اگر علاج نہ کیا جائے تو مہینوں بلکہ ایک سال تک برقرار رہ سکتے ہیں۔
مرض کیسے پھیلتا ہے؟
یہ بیماری ایک مخصوص مکھی کے کاٹنے سے ہوتی ہے، جسے سینڈ فلائی کہا جاتا ہے، اس کے کاٹنے سے جلد پر زخم بن جاتا ہے جو عام ادویات سے فوری طور پر ٹھیک نہیں ہوتا۔
اس کی علامات اور اثرات ابتدا میں چھوٹے دانے کی صورت میں ظاہر ہوتے ہیں جن کے سائز میں آہستہ آہستہ اضافہ ہوتا ہے پھر ان دانوں میں پیپ بھرنے سے زخم بن جاتا ہے بعض کیسز میں یہ خود بخود ٹھیک ہوناجاتے ہیں مگر اکثر یہ دیرپا تکلیف کا باعث بنتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق گرم علاقوں میں یہ بیماری زیادہ پائی جاتی ہے، اسی لیے پاکستان، مشرق وسطیٰ، وسطی ایشیا اور مشرقی یورپ میں اس کے کیسز زیادہ رپورٹ ہوتے ہیں۔
عالمی ادارہ صحت اس بیماری کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے مختلف ممالک میں اقدامات کر رہا ہے۔ پاکستان میں بھی حکومتی سطح پر صفائی کے بہتر انتظامات اور عوامی آگاہی مہمات کے ذریعے اس مرض پر قابو پانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
احتیاطی تدابیر
اس مرض سے محفوظ رہنے کیلیے احتیاطی تدابیر لازمی اختریار کی جائیں جن میں مچھروں اور مکھیوں سے بچنا، جسم کو ڈھانپ کر رکھنا، صفائی کا خاص خیال رکھنا اور زخم کی صورت میں فوری علاج کرنا شامل ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جلدی امراض کو معمولی سمجھ کر نظر انداز کرنا بعد میں پیچیدگیوں کا باعث بن سکتا ہے، اس لیے بروقت تشخیص اور علاج انتہائی ضروری ہے۔



