spot_img

ذات صلة

جمع

مارکیٹیں کتنے بجے بند ہوں گی؟

حکومت نے ایندھن کی بچت پالیسی کے تحت مزید...

بنوں میں بارود سے بھری گاڑی پولیس اسٹیشن سے ٹکرا گئی

بنوں میں بارود سے بھری گاڑی ڈومیل پولیس اسٹیشن...

بیرسٹر گوہر کے نام پر ہیکرز نے 5 لاکھ روپے لوٹ لیے

چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کے نام پر...

’موٹر سائیکل سواروں کے لیے 100 روپے فی لیٹر سبسڈی دی جائے گی‘

وفاقی وزیر برائے خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا ہے...

رشمیکا مندانا کا نجی آڈیو کلپ لیک ہوگیا، اداکارہ پریشان

ممبئی (12 مارچ 2026): ساؤتھ انڈین فلم انڈسٹری کی نامور اداکارہ رشمیکا مندانا کا نجی آڈیو کلپ لیک ہو کر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر وائرل ہوگیا۔

انڈین میڈیا کے مطابق رشمیکا مندانا نے اُن افراد، سوشل میڈیا انفلوئنسرز اور میڈیا پلیٹ فارمز کے خلاف قانونی کارروائی کا اشارہ دیا ہے جو ان کا نجی آڈیو کلپ وائرل کر رہے ہیں۔

رشمیکا مندانا نے انسٹاگرام اسٹوری پر اس حوالے سے تفصیلی بیان جاری کیا جس میں ان کا کہنا تھا کہ میں کئی سالوں سے آن لائن غلط معلومات، ہراساں کیے جانے اور ٹارگٹڈ حملوں کا سامنا کر رہی ہوں، میری باتوں کو بار بار سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا تاکہ جھوٹے بیانیے تخلیق کیے جا سکیں۔

یہ بھی پڑھیں: رشمیکا مندانا ایک فلم کا کتنا معاوضہ وصول کرتی ہیں؟

واضح رہے کہ یہ تنازع اُس وقت دوبارہ سر اٹھانے لگا جب رشمیکا مندانا اور ان کی والدہ کی ایک پرانی نجی آڈیو کلپ انٹرنیٹ پر گردش کرنے لگی۔

کہا جا رہا ہے کہ یہ آڈیو کلپ تقریباً آٹھ سال پرانی ہے جس میں کنڑ اداکار رکشیت شیٹی کے بارے میں اداکارہ اور ان کی والدہ کے خیالات موجود ہیں۔ یہ اُس وقت کی بات ہے جب دونوں کی منگنی ہوئی تھی جو بعد ازاں اختلافات کی وجہ سے ختم ہوگئی تھی۔

واضح رہے کہ آڈیو کلپ رشمیکا مندانا کی اداکار وجے دیوراکونڈا سے شادی کے کچھ ہی دنوں بعد دوبارہ منظر عام پر آئی ہے۔ اس پر ردعمل دیتے ہوئے اداکارہ نے کہا کہ یہ گفتگو نجی تھی جسے رضامندی کے بغیر ریکارڈ اور لیک کیا گیا۔

انسٹاگرام اسٹوری میں ان کا کہنا تھا کہ وہ برسوں سے آن لائن تنقید اور ذاتی حملوں کے باوجود خاموش رہیں، حالیہ تنازع نے حد پار کر دی ہے کیونکہ اس میں ان کا خاندان اور وہ دیگر لوگ شامل ہیں جن کے ساتھ ان کے خوشگوار تعلقات ہیں۔

اداکارہ کے بقول اس کلپ کو اب محض غیر ضروری نفرت اور توجہ حاصل کرنے کیلیے بڑے پیمانے پر پھیلایا جا رہا ہے۔

واقعے کو گمراہ کن اور ہتک آمیز قرار دیتے ہوئے انہوں نے خبردار کیا کہ جو لوگ اس مواد کو شیئر کر رہے ہیں وہ اسے فوری طور پر ہٹا دیں۔

انہوں نے میڈیا پلیٹ فارمز، انفلوئنسرز اور افراد سے مطالبہ کیا کہ وہ ان کے بیان کے 24 گھنٹوں کے اندر اس کلپ کو ڈیلیٹ کر دیں اور اگر نہ ہٹایا گیا تو وہ قانونی کارروائی کریں گی۔

رشمیکا مندانا نے مزید کہا کہ قانونی چارہ جوئی کا فیصلہ آسانی سے نہیں لیا گیا بلکہ اپنی عزت نفس اور پرائیویسی کے تحفظ کیلیے اب یہ ضروری ہوگیا ہے۔

spot_imgspot_img