کراچی (4 اپریل 2026): چیئرمین ایل پی جی ایسوسی ایشن عرفان کھوکھر نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک میں مائع پیٹرولیم گیس وافر مقدار میں موجود ہے۔
عرفان کھوکھر نے اپنے بیان میں یہ بھی بتایا کہ پورٹ قاسم پر ایل پی جی کے 4 سے زائد جہاز آ چکے ہیں، اینگرو اور ایس ایس جی سی ٹرمینلز پر بڑی مقدار میں گیس امپورٹ ہوئی ہے۔
واضح رہے کہ گیس بحران اور قیمتوں میں اضافے کے بعد شہریوں کی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے۔ گیس کی لوڈشیڈنگ اور پریشر میں کمی کے باعث شہری ایل پی جی استعمال کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اوگرا کا مارکیٹ میں ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافے کا نوٹس
ایل پی جی کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا ہے جس سے گھریلو سلنڈر استعمال کرنے والے پریشان ہیں۔ مائع پیٹرولیم گیس سرکاری نرخ سے تجاوز کر گئی ہے اور 460 سے 480 روپے فی کلو میں فروخت کی جا رہی ہے۔
منافع خوروں نے مارکیٹ میں اس کی مصنوعی قلت پیدا کر دی ہے، امپورٹرز، پلانٹ آپریٹرز اور ہول سیلرز مہنگی گیس فروخت کر رہے ہیں۔
دکانداروں کا مؤقف ہے کہ مہنگی ایل پی جی خرید کر سستی فروخت نہیں کر سکتے، جبکہ صارفین کا کہنا ہے کہ سرکاری ریٹ 304 کے بجائے 470 روپے تک فروخت ہو رہی ہے۔
اس پر چیئرمین ایل پی جی ایسوسی ایشن عرفان کھوکھر کا کہنا ہے کہ اوگرا اور انتظامیہ زائد قیمتوں پر فروخت روکنے میں ناکام ہیں۔



