اسلام آباد (4 ستمبر 2025) ایف بی آر نے ضبط کی گئی اسمگل شدہ گاڑیوں کو غیر قانونی طور پر ریگولرائز کرنے میں ملوث ایف بی آر افسران و اہل کاروں کو معطل کردیا۔
اے آر وائی نیوز کی رپورٹ کے مطابق ایف بی آر حکام نے اسمگل شدہ گاڑیوں کی ریگولرائزیشن میں ملوث اپنے افسران کیخلاف کارروائی کی ہے۔
آکشن ماڈیول کے غلط استعمال پر کارروائی کرتے ہوئے ڈپٹی کلکٹر اور اسسٹنٹ کلکٹر کو معطل کردیا گیا۔ اس حوالے سے ایف بی آر ترجمان کا کہنا ہے کہ شفافیت اور ادارہ جاتی احتسابی عمل ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔
سال 2021میں نیلام شدہ گاڑیوں کا غلط استعمال روکنے کیلئےآکشن ماڈیول متعارف کرایا گیا تھا، جس میں نیلام شدہ گاڑیوں کی تفصیلات آن لائن تصدیق کرنے کی سہولت دی گئی تھی۔
ایف بی آر ترجمان کے مطابق آن لائن تصدیق کا مقصد ادارہ جاتی کنٹرول مضبوط اور حقیقی خریداروں کو سہولت فراہم کرنا تھا۔
جولائی 2025 میں اس آکشن ماڈیول کے غلط استعمال کی رپورٹس سامنے آئیں، ماڈیول کے آغاز سے اب تک ایک ہزار909 گاڑیوں کی تفصیلات سسٹم میں اپ لوڈ کی گئیں۔
جانچ پڑتال کے بعد معلوم ہوا کہ 103گاڑیاں جعلی یوزر آئی ڈیز کے ذریعے اپ لوڈ کی گئیں،
43اسمگل گاڑیوں کو موٹر رجسٹریشن اتھارٹیز کے ذریعے پہلے ہی قانونی حیثیت حاصل ہوچکی تھی۔
ڈیجیٹل آڈٹ اور انٹرنل انویسٹی گیشن کی بنیاد پر جعلی یوزر آئی ڈیز کی نشاندہی کی گئی، ا نکوائری کےنتیجے میں 9جولائی کو ایک ڈپٹی کلکٹر اور ایک اسسٹنٹ کلکٹر کو معطل کردیا گیا۔
اس مجرمانہ نیٹ ورک میں موٹر رجسٹریشن اتھارٹیز کے افسران، کار ڈیلرز شامل تھے، 9جولائی 2025کو مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی بنانے کی باضابطہ درخواست کی گئی۔
کمیٹی ایف آئی اے، کسٹمز اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے سینئر افسران پر مشتمل تھی، جے آئی ٹی کو ہیرا پھیری کے دیگر اسکینڈلز کی تحقیقات کی ذمہ داری بھی دی گئی تھی۔
ایف آئی اے نے افسران کے خلاف ایف آئی آر درج کی جن کی نشاندہی پہلے ہی کی جاچکی، واقعے میں ملوث پائے گئے افراد کو آج ایف آئی اے نے باقاعدہ گرفتار کرلیا۔
بڑے اسکینڈل سے متعلق 7 ایف آئی آر درج کی گئیں،13افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے، ادارے کے اندر موجود مجرمانہ عناصر کی نشاندہی کرکے قانونی کارروائی کی جائے گی۔



