(28 مئی 2026): امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی میں توسیع کا معاہدہ ہوگیا۔
ایگزیوس رپورٹ کے مطابق ایران نے امریکا سے ایٹمی پروگرام پر مذاکرات کی حامی بھر لی اور اس کے مذاکرات کاروں نے اپنی سینئر قیادت سے منظوری بھی حاصل کر لی، منظوری کے بعد امریکی صدر نے جواب کیلیے کئی دن کی مہلت مانگی ہے، دونوں ممالک کے درمیان مفاہمت پر ڈونلڈ ٹرمپ کی منظوری کا انتظار ہے۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ اگر امریکا اور ایران کے درمیان معاہدہ ہوا تو واشنگٹن 60 دن کیلیے تہران کی بحری ناکہ بندی ختم کرے گا، امریکا کی آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی بلا روک ٹوک آمد و رفت کی شرط شامل ہے، امریکا کی شرط ہے کہ ایران جہازوں سے ٹیکس نہیں لے گا۔
ایگزیوس کے مطابق امریکا نے شرط عائد کی ہے کہ ایران 30 دن کے اندر آبنائے ہرمز سے بارودی سرنگیں ہٹائے گا، امریکی بحری ناکہ بندی کو مرحلہ وار ختم کرنا بھی معاہدے میں شامل ہے۔
Scoop: U.S. and Iran reach deal but need Trump’s final approval, officials say https://t.co/wlireLbyaS
— Axios (@axios) May 28, 2026
مزید دعویٰ کیا گیا کہ ایران پر ایٹمی ہتھیار نہ بنانے کی پابندی معاہدے کا حصہ ہے، 60 روز کی جنگ بندی کے دوران انتہائی افزودہ یورینیم پر مذاکرات ہوں گے، امریکا مذاکرات میں پابندیوں کی نرمی اور منجمد اثاثے بحال کرنے کا وعدہ کرے گا، معاہدے میں ایران کو انسانی ہمدردی پر امداد حاصل کرنے میں مدد کا طریقہ کار شامل ہوگا۔
ایرانی سرکاری میڈیا نے گزشتہ روز مفاہمتی یادداشت کے چیدہ نکات جاری کیے تھے اور بتایا تھا کہ امریکا بحری ناکہ بندی ختم کر دے گا، 30 دن میں آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آمد و رفت بحال ہوگی۔
وائٹ ہاؤس نے ایرانی سرکاری میڈیا کی خبر کو غلط اور من گھڑت قرار دیا تھا جبکہ اس نے مفاہمتی یادداشت سے متعلق امریکی میڈیا رپورٹس پر کوئی ردعمل نہیں دیا تھا۔



