پشاور : وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے اپنی بجٹ تقریر میں ایوان کو کے پی میں امن و امان سے متعلق کیلئے کیے گئے اقدامات سے آگاہ کیا۔
انہوں نے بتایا کہ پولیسنگ اور سیکیورٹی کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے متعدد اقدامات کئے گئے ہیں۔
صوبے میں امن وامان کی صورتحال کو بہتر کرنے کیلئے صوبائی حکومت نے 2022 میں پولیس کے بجٹ میں خاطر خواہ اضافہ کیا ہے۔
مالی سال 2022-23 میں پولیس کا بجٹ 67 ارب روپے تھا جسے بڑھا کر سیکیورٹی ارب روپے کردیا گیا ہے، جو 185 فیصد کا اضافہ ہے۔
مالی سال 2026-27 میں پولیس پروکیورمنٹ پلان کیلیے 14.5 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جس میں جدید اسلحہ اور گولہ بارود کی خریداری کیلیے 7.774 ارب روپے، بلٹ پروف گاڑیوں، اے پی سیز اور ٹروپ کیریئرز کی خریداری کے لئے 1.817 ارب روپے، تھرمل کیمرے، ڈرونز، اینٹی ڈرونز سسٹمز اور مواصلاتی آلات سمیت جدید ٹیکنالوجی کے لیے 3.562ارب روپے اور اہلکاروں کی حفاظت کیلیے بلٹ پروف جیکٹس اور ہیلمٹس کی خریداری کیلیے 1.276 ارب روپے شامل ہیں۔
واضح رہے کہ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے صوبہ خیبرپختونخوا کا 48 ارب روپے خسارے کا بجٹ پیش کردیا ہے, خیبرپختونخوا بجٹ کا مجموعی حجم 2 ہزار 170 روپے ہے جبکہ آمدن کا تخمینہ 2 ہزار 122 ارب روپے لگایا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے اسمبلی میں مالی سال 2026-27 کا بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ صوبہ کا یہ خسارہ قرض لے کر پورا نہیں کیا جائے گا بلکہ اپنے وسائل سے پورا کیا جائے گا۔
خیبرپختونخوا کا 48 ارب روپے خسارے کا بجٹ: تنخواہوں میں اضافہ



