spot_img

ذات صلة

جمع

شارع فیصل پر کار اور موٹر سائیکل کے لیے نئی اسپیڈ لمٹ مقرر

کراچی (02 مئی 2026): کراچی میں ٹریفک کی روانی...

انٹرن شپ کے خواہشمند طلبہ کیلئے سنہری موقع

لاہور : محکمہ صحت پنجاب کی جانب سے طلبہ...

بچوں کا ب فارم بنوانا نہایت آسان

لاہور : چائلڈ رجسٹریشن سرٹیفکیٹ (سی آر سی) جسے...

کیا پیٹرول کی قیمتیں آدھی ہوجائیں گی؟

امریکا اور ایران کی دو مہینے سے جاری اس جنگ نے پوری دنیا کی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا ہے، جس کی سب سے بڑی وجہ عالمی منڈی میں خام تیل کی بڑھتی ہوئی قیمت ہے۔

ایران امریکہ کشیدگی کے بعد اب تیل کی قیمتوں میں بڑی تبدیلی متوقع ہے، یو اے ای کے حالیہ فیصلے کے بعد ٰخام تیل کی قیمت 50 ڈالر فی بیرل تک گر سکتی ہیں۔،

یاد رہے کہ ایران امریکہ جنگ سے پہلے برینٹ کروڈ 70 ڈالر فی بیرل تھا جو اب تقریباً 100 ڈالر سے اوپر تک پہنچ چکا ہے۔

دوسری جانب یو اے ای نے تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک سے علیحدگی کا عندیہ دیا ہے، جسے عالمی توانائی مارکیٹ میں بڑی تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے۔

انٹرنیشنل انرجی ایجنسی کے مطابق یو اے ای کے نکل جانے سے اوپیک کی مجموعی پیداواری صلاحیت تقریباً 13 فیصد کم ہو جائے گی، جس سے مارکیٹ کو کنٹرول کرنے کی اس کی طاقت کمزور ہو جائے گی، یہ ایک بڑے طوفان کا آغاز ہے، جو تیل کی قیمتوں کو 50 ڈالر فی بیرل تک لا سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق اس فیصلے سے اوپیک کی پیداوار کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت متاثر ہوگی جبکہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی فراہمی بڑھنے کا امکان ہے۔

ایران اور امریکا کے درمیان تنازع نے دنیا بھر کی معیشت کو متاثر کیا ہے، جبکہ تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق برینٹ کروڈ آئل کی قیمت جو اس تنازع سے قبل تقریباً 70 ڈالر فی بیرل تھی، اب بڑھ کر 100 ڈالر سے زائد کی سطح تک پہنچ چکی ہے، جس کے باعث عالمی معیشت پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔

تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال عارضی ہوسکتی ہے اور آنے والے مہینوں میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی متوقع ہے۔

ماہرین نے تیل کی قیمتوں میں ممکنہ کمی کی تین بڑی وجوہات بیان کی ہیں ان کا کہنا ہے کہ یو اے ای اب اپنی مکمل صلاحیت کے مطابق تیل پیدا کر سکے گا جس سے سپلائی بڑھے گی۔

امریکا اس وقت دنیا کا سب سے بڑا آئل پروڈیوسر بن چکا ہے اور جدید ٹیکنالوجی کے باعث کم قیمت پر بھی منافع کما سکتا ہے۔

دنیا بھر میں الیکٹرک گاڑیوں اور متبادل توانائی کے استعمال میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، جس سے تیل کی طلب کم ہو رہی ہے۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کہاں تک جا سکتی ہیں؟

ماہرین کے مطابق تیل کی قیمتوں میں کمی پاکستان کے لیے معاشی ریلیف کا باعث بن سکتی ہے، کیونکہ ملک اپنی ضرورت کا 80 فیصد سے زائد تیل درآمد کرتا ہے۔

قیمتیں کم ہونے سے درآمدی بل میں 4 سے 5 ارب ڈالر تک کمی ہوسکتی ہے، مہنگائی میں کمی آئے گی، ٹرانسپورٹ اور بجلی کے اخراجات کم ہوں گے، صنعتی شعبے کو فائدہ ہوگا۔

 

عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں 115 ڈالر سے تجاوز کرگئیں

spot_imgspot_img