spot_img

ذات صلة

جمع

امریکی فوج نے ایران پر حملے شروع کردیے

واشنگٹن (10 جون 2026) : آبنائے ہرمز کے قریب...

پاپا رازی کی کیا حقیقت ہے؟ حیران کن کہانی سامنے آگئی

پاپا رازی (Paparazzi)کسی ایک شخص کو نہیں بلکہ ان...

بے رحم شخص کا اونٹنی پر تشدد، دونوں آنکھیں نکال لیں

تھرپارکر : اندرون سندھ کے شہر تھرپارکر میں اونٹنی...

جھانوی کپور نے ’پیڈی‘ کے لیے کتنا معاوضہ لیا؟

بالی ووڈ اداکارہ جھانوی کپور کی فلم ’پیڈی‘ میں...

کیا اسلام آباد کے انتظامی ڈھانچے میں تبدیلی کیلیے قانون سازی ہونے والی ہے؟ حکومتی سینیٹر کا اہم بیان

اسلام آباد (5 جون 2026): وفاقی دارالحکومت کے انتظامی ڈھانچے میں تبدیلی کیلیے قانون سازی کی خبروں پر حکومتی سینیٹر رانا ثنا اللہ کا اہم بیان سامنے آگیا۔

اے آر وائی نیوز کے پروگرام ’اعتراض ہے‘ میں وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور و سینیٹر رانا ثنا اللہ نے کہا کہ کافی عرصے سے یہ زیرِ بحث تھا کہ اسلام آباد کو مستقبل میں کیسے چلایا جا سکتا ہے، اس حوالے سے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی تھی جس کے متعدد اجلاس ہوئے اور کئی آپشنز پر غور کیا گیا۔

رانا ثنا اللہ نے واضح کیا کہ ایسا کچھ نہیں ہے کہ اسلام آباد کے انتظامی ڈھانچے میں تبدیلی کیلیے کوئی قانون سازی ہو رہی ہے، البتہ اس کا آپشن ہے لیکن فوری عملدرآمد نہیں ہو رہا۔

یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد کے انتظامی ڈھانچے میں بڑی تبدیلی کا فیصلہ

انہوں نے کہا کہ شہر کے بلدیاتی نظام کو بھی بااختیار بنانے پر بھی باتیں ہو رہی ہیں، اسلام آباد کو تین ٹاؤن میں بدلنے کا آپشن ہے جس پر عملدرآمد جلد ممکن ہو، وفاقی دارالحکومت میں بلدیاتی انتخابات اگست یا ستمبر میں ہو سکتے ہیں مختلف آپشنز پر بحث ہوئی تھی۔

قبل ازیں، ذرائع نے بتایا تھا کہ وفاقی دارالحکومت کے انتظامی ڈھانچے میں تبدیلی اور الگ قانون ساز اسمبلی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور خصوصی کمیٹی نے اس سے متعلق وزیر اعظم شہباز شریف کو رپورٹ پیش کر دی ہے۔

خصوصی کمیٹی جو احسن اقبال، رانا ثنا اللہ، طارق فضل چوہدری اور مصدق ملک پر مشتمل تھی، ان کی پیش کردہ تجاویز کے مطابق اسلام آباد کا علیحدہ حکومتی ڈھانچہ اور الگ چیف ایگزیکٹو ہوگا۔

ذرائع کے مطابق خصوصی کمیٹی کی تجاویز کے مطابق اسلام آباد کی اسمبلی 20 سے 30 ارکان پر مشتمل ہوگی، اس کا سیکریٹریٹ بھی علیحدہ ہوگا اور یہ وفاقی دارالحکومت سے متعلق قانون سازی کرے گی۔

خصوصی کمیٹی کی پیش کردہ تجاویز کے مطابق اسلام آباد اسمبلی کے ارکان براہ راست انتخابات کے ذریعہ منتخب ہوں گے۔ سی ڈی اے سمیت اسلام آباد کے ترقیاتی اور انتظامی امور اسمبلی کے ذریعہ حل ہوں گے۔

وزیراعظم کی منظوری کے بعد پارلیمنٹ میں اسلام آباد کے الگ انتظامی ڈھانچے سے متعلق قانون سازی کی جائے گی۔

spot_imgspot_img