ایران اسرائیل جنگ کے باعث تیل کی عالمی ترسیل شدید متاثر ہے اور عالمی شپنگ کمپنیوں کے آپریشنز معطلی سے خلیج میں کارگوز کے ٹریڈ ریٹ میں چار گنا کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
جنگی حالات کے باعث انشورنس ریٹس بھی کئی گنا بڑھ گئے ہیں ایسی صورتحال میں آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل نے اسٹیٹ بنک کو خط لکھ دیا ہے۔
پاکستان میں آئل اور پیٹرولیم مصنوعات کی مارکیٹنگ کرنے والی کمپنیوں کی ایک نمائندہ تنظیم او سی اے سی نے تیل درآمد طریقہ کار میں تبدیلی کی درخواست کی ہے۔
او سی اے سی نے 2 ماہ کیلئے کاسٹ انشورنس اینڈ فریٹ بنیاد پر تیل درآمدات کی اجازت مانگ لی اور پاکستان میں تیل کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے کیلئے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔
تنظیم کا کہنا ہے کہ بحری جہاز مالکان اور سپلائرز خطے میں کارگو لانے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہیں موجودہ حالات میں کاسٹ اینڈ فریٹ بنیاد پر انشورنس حاصل کرنا انتہائی مشکل ہے جب کہ پی ایس او کے حالیہ ٹینڈر میں پٹرول ڈیزل کیلئے کوئی بولی موصول نہیں ہوئی، سپلائرز کو انشورنس کا انتظام کرنے کیلئے کاسٹ انشورنس فریٹ امپورٹ کی اجازت ضروری ہے۔
او سی اے سی نے اسٹیٹ بینک سے کمرشل بینکوں کو فوری ہدایات جاری کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ تیل کی ترسیل متاثر ہونے سے پاکستان میں ایندھن کی سپلائی کو خطرہ ہے۔



