اداکار و میزبان یاسر حسین کا کہنا ہے کہ ڈرامہ محنت سے بنتا ہے اور دو، تین لوگ نمبر دے کر اسے خراب قرار دے دیتے ہیں۔
اے آر وائی پوڈ کاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے اداکار یاسر حسین نے کہا کہ ایک ڈرامے کو آپ لوگ خود کہہ رہے ہیں کہ پوری دنیا میں دیکھا جارہا ہے پھر آپ اسے خود کیوں خراب کررہے ہیں۔
انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ اگر ہمارا وزیراعظم بیرون ملک جائے جہاں اس کی بہت عزت ہورہی ہو اور ہم بطور پاکستانی کہیں کہ نہیں بھئی یہ سب بکواس ہے۔
اداکار نے کہا یکہ ایسا نہ کریں ایک چیز اچھی بن رہی ہے اسے بننے دیں اُسے پہلے صحیح سے دیکھیں، جو چیز آٹھویں قسط میں سامنے آنی ہوتی ہے آپ تیسری قسط دیکھ کر ہی اس کی برائی شروع کردیتے ہیں اور پھر آگے دیکھ کر کہتے ہیں اچھا یہ اس لیے ہورہا تھا آپ خود ہی بیوقوف لگ رہے ہیں۔
یاسر حسین نے کہا کہ میں تو نادیہ خان کا شو ہی نہیں دیکھتا میں نے انسٹاگرام پر کلپ دیکھا تھا اور میرے بارے میں بات نہیں ہورہی تھی میرے ڈرامے کے بارے میں بات ہورہی تھی۔
انہوں نے کہا کہ وہ منفی تبصرہ بہت اچھا کرتی ہیں اور اس شو کی آفر مجھے بھی آئی تھی لیکن میں نے انکار کردیا تھا۔



