نیوزی لینڈ پولیس نے وہ قیمتی ہیروں کا لاکٹ برآمد کرلیا ہے جسے ایک چور نے گزشتہ دنوں زیورات کی دکان سے چوری کرنے کے بعد مبینہ طور پر نگل لیا تھا۔
یہ انڈہ نما فبرگے لاکٹ تھا جس کی قیمت 19 ہزار 300 امریکی ڈالر (تقریباً 54 لاکھ پاکستانی روپے) ہے۔ پولیس نے ملزم کی آنتوں کی حرکت کو مسلسل 6 دن تک مانیٹر کیا، جس کے بعد لاکٹ بغیر کسی طبی عمل کے خودبخود جسم سے خارج ہوگیا۔
پولیس کی جانب سے جاری کی گئی تصویر میں ایک دستانہ پہنا ہوا ہاتھ دکھایا گیا ہے جو برآمد شدہ لاکٹ کو پکڑے ہوئے ہے۔ ہیروں کا لاکٹ اب بھی اپنی لمبی سنہری زنجیر اور قیمت کی پرچی کے ساتھ موجود تھا۔
پولیس نے 32 سالہ ملزم کا نام ظاہر نہیں کیا۔ اس پر الزام ہے کہ اس نے 28 نومبر کو آکلینڈ میں واقع بارٹریج جیولرز نامی دکان سے آکٹوپس ڈیزائن والا قیمتی لاکٹ چوری کرکے نگل لیا تھا۔ پولیس نے اسے واقعے کے چند ہی منٹ بعد دکان کے اندر سے گرفتار کر لیا تھا۔
پولیس کے ترجمان کے مطابق جمعرات کی شام جب لاکٹ قدرتی طور پر باہر آیا، تو اسے فوراً پولیس نے اپنی تحویل میں لے لیا۔ ترجمان نے مزید بتایا کہ ملزم اور لاکٹ دونوں پولیس کی حراست میں ہیں۔
ملزم کو 29 نومبر کو پہلی مرتبہ عدالت میں پیش کیا گیا تھا، اب وہ 8 دسمبر کو دوبارہ آک لینڈ کے ڈسٹرکٹ کورٹ میں پیش کیا جائے گا۔ اس دوران پولیس اہلکار مسلسل نگرانی کرتے رہے تاکہ ثبوت برآمد ہوسکے۔
جیولر کی ویب سائٹ کے مطابق مبینہ طور پر چوری کیا گیا فیبرجے ایگ 60 سفید ہیروں اور 15 نیلے نیلم سے مزین ہے اور اسے کھولنے پر اندر 18 قیراط سونے کا بنا ہوا ایک ننھا آکٹوپس موجود ہوتا ہے۔
اس لاکٹ کا نام ’آکٹوپسی ایگ‘ ہے جس کی تخلیق 1983 میں ریلیز ہونے والے جیمز بانڈ فلم سے متاثر ہو کر کی گئی تھی، جو ایک پیچیدہ فیبرجے ایگ کی چوری کے گرد گھومتی ہے۔



