اسلام آباد 1 جنوری 2026: وزیر اعظم کے مشیر سیاسی امور رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی سے جو بھی مذاکرات ہوئے اسٹیک ہولڈرز بشمول اسٹیبلشمنٹ آن بورڈ ہوں گے۔
اے آر وائی نیوز کے پروگرام ’خبر‘ میں رانا ثنا اللہ نے کہا کہ محمود اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر بنا دیں یا دوسرے درجے کی قیادت جو مذاکرات چاہتی ہے، وزیر اعظم شہباز شریف نے 3 بار فلور پر اور یوم آزادی کے وقت بھی اپوزیشن کو ڈائیلاگ کی دعوت دی، انہوں نے چند دن پہلے مذاکرات کی پیشکش کو دہرایا ہے، محمود اچکزئی کے پاس کوئی اختیار نہیں، عمران خان مذاکرات نہیں چاہتے۔
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ عمران خان کا آج بھی یہی مؤقف ہے کہ 8 فروری کو پہیہ جام کیا جائے، بانی پی ٹی آئی مذاکرات کرنے کے موڈ میں نہیں ہیں، انہوں نے اپنی بہن کو واضح طور تازہ ملاقات میں اسٹریٹ موومنٹ کا کہا، علیمہ خانم بالکل درست کہہ رہی ہیں کہ ان کے بھائی نے واضح کہا کہ جو مذاکرات کرے گا وہ ہم میں سے نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات بالکل نہیں ہونے چاہئیں، کامران ٹیسوری
’دفاعی ادارے کے خلاف سوشل میڈیا پر جو ہرزہ سرائی ہو رہی ہے کیا یہ مذاکرات کی کوشش ہے؟ اس قسم کی ہرزہ سرائی سے بلیک میل کریں گے تو صرف نقصان ہی ہوگا۔ سوشل میڈیا پر تمام اکاؤنٹس پی ٹی آئی کے ہیں یہ اس سے قطعاً انکار نہیں کر سکتے۔ اکاؤنٹس سے مہم چلائی جا رہی ہے کہ دفاعی ادارے کو کمزور کیا جائے، مسلح افواج کی قیادت کے خلاف ہرزہ سرائی کرنے والوں سے مذاکرات ہونے بھی نہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی سے جو بھی مذاکرات ہوں گے اسٹیک ہولڈرز بشمول اسٹیبلشمنٹ آن بورڈ ہوں گے، عمران خان کے بیانات اور سوشل میڈیا پر گالم گلوچ کے بعد مذاکرات پر بیٹھنا مشکل ہوگا، میرا خیال ہے وزیر اعظم شہباز شریف نے مذاکرات کی پیشکش پر نواز شریف سے اپروول لی ہوگی۔
ان کا کہنا تھا کہ 8 فروری کو احتجاج اور پہیہ جام ہڑتال کی کال ناکام ہوگی، پی ٹی آئی نے ہڑتال کی کال بغیر کسی گراونڈ ورک دی ہے، پہیہ جام کرنے والے دھر لیے جائیں گے پھر گلہ کریں گے یہ ہوگیا وہ ہوگیا، 8 فروری کو پی ٹی آئی کوئی 9 مئی کرے گی تو ان کے خلاف بھرپور ایکشن ہوگا۔



