spot_img

ذات صلة

جمع

مارکیٹیں کتنے بجے بند ہوں گی؟

حکومت نے ایندھن کی بچت پالیسی کے تحت مزید...

بنوں میں بارود سے بھری گاڑی پولیس اسٹیشن سے ٹکرا گئی

بنوں میں بارود سے بھری گاڑی ڈومیل پولیس اسٹیشن...

بیرسٹر گوہر کے نام پر ہیکرز نے 5 لاکھ روپے لوٹ لیے

چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کے نام پر...

’موٹر سائیکل سواروں کے لیے 100 روپے فی لیٹر سبسڈی دی جائے گی‘

وفاقی وزیر برائے خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا ہے...

پی آئی اے فروخت ہوگیا، ادارے کے عروج و زوال کی کہانی

پاکستان انٹرنیشنل ائیر لائن ( پی آئی اے ) آخر کار فروخت ہو ہی گیا یہ قومی ادارہ کسی زمانے میں وطن عزیز کا فخر اور سر کے تاج کا درجہ رکھتا تھا۔

اس کی نجکاری کی تقریب گزشتہ روز بہت دھوم دھام سے منعقد ہوئی اس دوران نیلامی میں خریداروں نے اپنی اپنی بساط کے مطابق اس کی بولی لگائی۔

بالآخر قومی ایئرلائن کی فروخت کا عمل مکمل ہوگیا اور عارف حبیب گروپ نے میدان مار لیا، عارف حبیب کنسورشیم نے 135 ارب روپے کی کامیاب بولی لگا کر پی آئی اے کے 75 فیصد حصص خرید لیے۔

تقریب کا آخری مرحلہ شروع ہوا تو عارف حبیب کنسورشیم نے بولی کی قیمت 121 ارب سے بڑھا کر 135 روپے تک لگائی جس پر گروپ کو پی آئی اے کی خریداری کا اہل قرار دیا گیا۔

بولی کے پہلے مرحلے میں لکی کنسورشیم نے 101.5 ارب روپے جبکہ ایئربلیو نے 26 ارب 50 کروڑ اور عارف حبیب کنسورشیم گروپ نے 115 ارب روپے کی سب سے زیادہ بولی لگائی۔

وقفے کے بعد دوسرا مرحلہ شروع ہوا تو لکی کنسورشیم نے بولی کی قیمت کو بڑھایا اور اسے 101.5 ارب سے 120.25ارب روپے تک لے گیا عارف حبیب کنسورشیم نے 121 ارب روپے کی نئی بولی لگائی۔

پی آئی اے کی تاریخ

پی آئی اے کی تاریخ پر نظر دہرائی جائے تو یکم فروری 1955 کو پی آئی اے کی پہلی غیر ملکی پرواز نے کراچی سے لندن براستہ قاہرہ کیلئے اڑان بھری، اس ایئر لائن کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ یہ ایشیا کی پہلی ایئر لائن ہے کہ جس نے سب سے پہلے جیٹ طیاروں کو اپنے بیڑے میں شامل کیا۔

قومی ائیرلائن کیلیے سال 1956ء میں نئے جہاز خریدے گئے، سال 1962ء میں اس ایئرلائن نے تاریخی ریکارڈ قائم کرتے ہوئے لندن سے کراچی تک کا فاصلہ چھ گھنٹے 43 منٹ میں طے کیا۔

بعدازاں یہ ایئرلائن ترقی کی منازل طے کرتی رہی، یہاں تک کہ سال 1985ء میں امارات ایئر لائن کا آغاز بھی پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) سے طیارے لیز پر لے کر کیا گیا تھا۔

پی آئی اے دنیا کی پہلی نان کمیونسٹ ایئر لائن تھی جس نے چین میں لینڈ کیا، پہلی ایئر لائن جس نے ماسکو کے راستے ایشیا کو یورپ سے منسلک کیا، دنیا کی یہ پہلی ایئر لائن ہے کہ جس نے دوران پرواز مسافروں کی تفریح کیلیے موویز اور میوزک کو متعارف کرایا۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ پی آئی اے نے سال 1967 میں اس وقت آئی بی ایم کمپیوٹر خریدا جب لوگ کمپیوٹر کے نام سے بھی واقف نہیں تھے۔

اس کے علاوہ روشنیوں کے شہر کراچی کا سنہرا دور جب یہاں 40 ایئر لائنز کمپنیاں لینڈ کیا کرتی تھیں اور ان میں سے 30 کمپنیوں کے فضائی اور زمینی عملے کی تربیت کا کنٹریکٹ پی آئی اے کو ملا۔

عظیم انقلابی شاعر فیض احمد فیض نے مشہور و معروف نعرہ ’باکمال لوگ لاجواب سروس‘ اور ’گریٹ پیپل ٹو فلائی ودھ‘ پی آئی اے کے نام کیا۔

عارف حبیب کنسورشیم نے 135 ارب روپے میں پی آئی اے خرید لی

spot_imgspot_img